فیصل آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) ساحرانہ ترنم ، پھولوں اور خوشبوو¿ں کی شاعرہ ، لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی پروین شاکر کی 24 ویں برسی بدھ کو فیصل آباد سمیت ملک بھر میںمنائی گئی۔ خوشبو ، صد برگ ، خود کلامی ، انکار ، ماہ تمام سمیت درجنوں شعری مجموعہ کلام کی مصنف پروین شاکر خواتین کی انتہائی ہر دلعزیز شاعرہ تھیں ۔ پروین …
پروین شاکر کی 24ویں برسی منائی گئی
فیصل آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) ساحرانہ ترنم ، پھولوں اور خوشبوو¿ں کی شاعرہ ، لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی پروین شاکر کی 24 ویں برسی بدھ کو فیصل آباد سمیت ملک بھر میںمنائی گئی۔ خوشبو ، صد برگ ، خود کلامی ، انکار ، ماہ تمام سمیت درجنوں شعری مجموعہ کلام کی مصنف پروین شاکر خواتین کی انتہائی ہر دلعزیز شاعرہ تھیں ۔ پروین شاکر 24نومبر 1952ءکو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پہلے وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئیں تاہم 9سال بعد درس وتدریس کو خیر باد کہتے ہوئے انہوںنے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ افسر کی حیثیت سے کئی سال تک اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دیئے اور ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی و ادبی پروگراموں میں شرکت کرتیں رہیں۔ انہوں نے بہت کم عمری میں ہی شعر گوئی شروع کر دی تھی اوراپنی لا زوال شاعری میں محبت ، حسن اور عورت کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان کی شاعری مختلف نشیب و فراز کا شکار رہی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں کہیں کرب اورکبھی شگفتگی پر اظہار خیال کیا ۔ان کی شاندار خدمات پر انہیں آدم جی ایوارڈ ، پرا ئیڈ آف پرفارمنس اور دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ پروین شاکر کی ازدواجی زندگی بھی مختلف اتار چڑھاﺅ کا شکار رہی ۔









