پلاسٹک آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام کو اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا، شیری رحمان

"سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام کی جانب سے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔”

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام کی جانب سے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔

ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعات اور کالجز میں پلاسٹک آلودگی کے حوالے سےآگاہی سیمینارز منعقد کئے جائیں تاکہ طلبہ کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں پلاسٹک مخالف قانون پہلے ہی متعارف کرایا جا چکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگزپلاسٹک آلودگی میں اضافے کے بڑے عوامل میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک میں متعدد ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کےفضلے کے انتظام کے شعبے میں پہلے ہی نئی اور اختراعی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے پلاسٹک آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید خیالات پیش کرنے اور عملی حل پر کام کرنے کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔