پمز نرسری آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق کے لئے تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری، پیشہ وارانہ اور میرٹ پر مبنی ہسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور مؤثر کمپلائنس کے نظام کو یقینی بنا نے پر زور

وزیراعظم کی جانب سے 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسر (پمز )نرسری آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق کے لئے تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی ہے

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کی جانب سے 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسر (پمز )نرسری آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق کے لئے تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی ہے ، رپورٹ میں پیشہ وارانہ اور میرٹ پر مبنی ہسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور مؤثر کمپلائنس کے نظام کو یقینی بنا نے، فائر سیفٹی ، انسانی جانوں کے تحفظ اور برقی حفاظتی آڈٹ کرا نے کی شفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو موثر حفاظتی انتظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مقامی برقی خرابی سے آگ لگنے کا امکان قوی ہے، آتش گیر مواد اور آکسیجن نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا، نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچوں ، محدود انخلاء کی صلاحیت نے امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا۔منگل کو وزیراعظم محمد شہبازشریف کے حکم سے وزارت قومی صحت کی جانب سے یہ انکوائری رپورٹ جاری کی گئی ۔واضح رہے کہ وزیراعظم نے 26 اگست 2026ء کو پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کے چیئرمین سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹرخورشید، بیرسٹر نبیل احمد اعوان، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور ڈپٹی کمشنر آئی سی ٹی اس کے ارکان میں شامل تھے۔

ڈاکٹر رشید اے چوتانی کو ماہر رکن کے طور پرامریکہ سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔کمیٹی نے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ پیش کی۔انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا زیرو ڈرافٹ 3 ستمبر، پہلا ڈرافٹ 4 ستمبر اور حتمی ڈرافٹ 6 ستمبر کو تیار کیا گیا،کمیٹی نے تمام اراکین کی آراء اور تجاویز کو حتمی رپورٹ میں شامل کیا۔ رپورٹ کے مطابق پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔تحقیقاتی کمیٹی نے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج اور تباہ کن صورت اختیار کرنے کے عوامل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔کمیٹی نے ہنگامی ردعمل، نومولود بچوں کے انخلاء کے انتظامات، انفرادی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور ضروری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے،تحقیقات میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی۔سی سی ٹی وی ریکارڈ سے پمز نرسری میں ہنگامی صورتحال کے غیرمعمولی سرعت سے پیدا ہونے کی تصدیق کی۔

تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی، چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں بچوں کو بچانے کے لئے کارروائی کی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود بچے کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی،ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود رہے،تقریباً 6:39:15 بجے تک گہرے دھوئیں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا،شواہد اس عمومی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سے ممکنہ کارروائی کی،نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث پیدا ہوئی جس نے کیبل انسولیشن کو متاثر کیا اور قریب موجود آتش گیر مواد کو آگ لگ گئی

شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے کے امکان، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی کو آگ لگنے کی وجہ قرار دینے یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکان کی تائید نہیں کرتے، انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد موجود نہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انکوائری کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی نوعیت کی خرابی تھی،برقی خرابی کی درست نوعیت اور اس کی روک تھام میں ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کیا جانا ضروری ہے،مینٹیننس ریکارڈ کے مطابق نرسری کے اے سی یونٹس کی سروسنگ کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کے جامع برقی حفاظتی جانچ کا موثر نظام موجود نہیں،اہم بات ہے کہ برقی آلات کا فعال ہونا اس امر کے مترادف نہیں کہ اس کی برقی تنصیب بھی آگ سے مکمل طور پر محفوظ تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلات کو فعال رکھنے اور ان کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے درمیان اہم ادارہ جاتی خلا ء موجود تھا۔ نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا،دس بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود بچے زیر علاج تھے

متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے چنانچہ ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سرعت کے ساتھ ممکن نہیں تھا۔اس موقع پر صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں اور محفوظ انخلا ء کے وسائل بھی بہت محدود تھے،نرسری کے لئے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور نومولود بچوں کے انخلاء کے ایس او پیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتہ لگانے، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی، آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے چند سیکنڈز میں کارروائی کی،سی ای ایس ریکارڈ کے مطابق ایکسٹرنل نوٹیفیکیشن (بیرونی امداد) 06:54 بجے جبکہ ڈسپیچ 06:55 بجے اور آپریشنل آمد 07:01 بجے ثابت ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیادی تشویش 6:38 بجے پر آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان کا وقفہ ناقابل قبول ہے ،پمز کوئی آزمودہ حادثات کمانڈسسٹم قائم کرنے کا ثبوت نہیں پیش کر سکا جو آگ کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلاء

خطرے کی روک تھام، رسائی کے انتظام اور مربوط امدادی کارروائی کو فعال کر سکے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پمز نرسری کا سانحہ معلوم شدہ مگر مکمل طور پر نظرانداز کیے گئے خطرات کے پس منظر میں پیش آیا،جو ہسپتال انتظامیہ سے پیش بندی کے متقاضی تھے،سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت اور وفاقی محتسب کی 2015ء کی سفارشات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز نے 2025ء میں ہی فرسودہ فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کا اعتراف کیا تھا،6 جولائی 2026ء کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ میں پہلے ہی آگ کا بروقت پتہ لگانے، الارم، برقی معائنہ، انخلاء، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا چکی تھی۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابقہ تنبیہات کو نرسری سانحہ سے قبل جامع، مقررہ مدت اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا،اے سی یونٹ نمبر 2 کی مخصوص خرابی قبل ازوقت متعین نہ بھی ہوئی ہو، موثر فائر سیفٹی کے لئے مربوط اور مضبوط تیاری کی ضرورت واضح تھی جس کو ہسپتال انتظامیہ نے یکسرنظراندازکیا، انکوائری کمیٹی کے مطابق اس معاملے میں نظامی اورادارہ جاتی ناکامی ثابت ہوئی تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین دستیاب شواہد کی بنیاد پرمتعلقہ قواعد کے مطابق کیاجائے گا

معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سکیورٹی چین کے فرائض بالکل واضح ہیں لیکن ان کے مطابق ایس او پیزموجودنہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طبی عملے کی لازمی موجودگی یا نگرانی اہم ہے۔ انجینئرنگ،برقی اور ایچ وی اے سی کی مینٹیننس اورریپئئرکے معاملات مزید تفتیش کے مطابق آگ لگنے کا غالباً ذریعہ اے سی یونٹ نمبر 2 کا برقی انتظام تھا، کنٹریکٹرز کی ذمہ داری کا تعین صرف انہیں تفویض کردہ حقیقی فرائض اورمزید تفتیش کی بنیاد پر کیا جائے۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم کا ارتکاب ثابت نہیں ہوتا،جو مزید فوجداری تفتیش کا متقاضی ہے،شواہد چار ممکنہ پہلوؤں پر ایسی مزید تحقیقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا مینٹیننس میں قابل مواخذہ غفلت، لازمی ہنگامی راستے میں قابل مواخذہ رکاوٹ، مخصوص سابقہ تنبیہ کے باوجود کارروائی میں ناکامی اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ قابل مواخذہ تاخیرکی مزید فوجداری تحقیقات کی جائیں۔

فوجداری ذمہ داری کے تعین کیلئے متعلقہ فرائض، خطرے سے آگاہی، کارروائی کا اختیار، غفلت کی نوعیت اور شدت، ناکام حفاظتی اقدام اور اس کے نتیجے میں کردار اور قابل اطلاق قانون کے تحت جرم کے عناصر کا فوجداری تحقیقات میں احاطہ ضروری ہے۔ جن فرنٹ لائن اہلکاروں کی امدادی کارروائی شواہد سے ثابت ہے، انہیں محض اس لئے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے کہ سانحہ کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے فوری فائر سیفٹی، انسانی جانوں کے تحفظ اور برقی حفاظتی آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے،فائر ڈیٹیکشن، الارم، آگ بجھانے اور محفوظ انخلا کے مؤثر نظام یقینی بنانے کی بھی سفارش موجود ہے،نومولود بچوں کے انخلاء کے لئے مخصوص ایس او پی اور حقیقت پسندانہ فائر و ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش کی ہے،برقی حفاظتی اقدامات اور اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے مؤثر انتظامی نظام قائم کیا جائے۔کمیٹی نے قراردیا کہ پیشہ وارانہ اور میرٹ پر مبنی ہسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور موثر کمپلائنس کے نظام کو یقینی بنایا جائے جس میں ہر خامی کے لئے ذمہ دار افسر، مقررہ مدت، مطلوبہ وسائل، عبوری حفاظتی اقدام، آزادانہ تصدیق اور باضابطہ تکمیل کا واضح طریقہ کار موجود ہو، کسی اقدام کا محض منظور یا زیر عمل ہونا اس کے نفاذ کا ثبوت نہیں،حفاظتی اقدام اسی وقت نافذ تصور ہوگ

ا جب خطرہ عملی طور پر ختم ہو اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی ہو جائے۔ کمیٹی نے قراردیا کہ مقامی برقی خرابی سے آگ لگنے کا امکان قوی ہے، آتش گیر مواد اور آکسیجن نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا،نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچوں، محدود انخلا ءکی صلاحیت نے امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا،نومولود بچوں کے لئے باقاعدہ مشق شدہ ہنگامی نظام کی عدم موجودگی نے ریسکیو کو محدود کیا،ادارہ جاتی سطح پر ہنگامی کارروائی میں تاخیر نے ردعمل کو مزید کمزور کیا۔انکوائری کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ طویل عرصے سے موجود انتظامی، مینٹیننس اور ریگولیٹری خامیوں نے مختلف کمزوریوں کو برقرار رہنے دیا، 14نومولود صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی سے نہیں بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کے موثر ہونے کی کبھی تصدیق نہ کئے جانے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ کمیٹی نے نومولود بچوں کے انخلا اور فائر و لائف سیفٹی تقاضوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا،انکوائری کمیٹی نے انفرادی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور اصلاحی اقدامات کی سفارشات تیار کیں،انکوائری صرف آگ لگنے کے مقام کی نشاندہی تک محدود نہیں تھی، مکمل حفاظتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے روک تھام، تیاری، ڈیٹیکشن، اطلاع، انخلا، امداد، نگرانی اور جواب دہی کے مکمل سلسلے کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے 52 نکاتی منظم تحقیقی فریم ورک کے تحت وجوہ و اسباب اور جواب دہی کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے ثابت شدہ حقیقت، ممکنہ تکنیکی نتیجے، بادی النظر ذمہ داری اورحل طلب معاملے میں فرق رکھا۔ماہر فرانزک شواہد کی موجودگی میں ابتدائی گواہانہ بیانات کو تکنیکی ثبوت نہیں سمجھا گیا۔