"سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے ماہ جولائی کے دوران پنجاب بھر میں پیش آنے والے 40,447 روڈ ٹریفک حادثات میں 373 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور 20,899 افراد کے شدید زخمی ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اوسطاً ہر 66 سیکنڈ میں ایک ٹریفک حادثہ رپورٹ ہوا۔”
پنجاب ایمرجنسی سروس نے ماہ جولائی کے دوران2لاکھ پچاس ہزار سے زائدمتاثرین کو ریسکیوسروسز فراہم کیں۔ ڈاکٹر رضوان نصیر

مزید خبریں
لاہور۔1اگست (اے پی پی):سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ (ریسکیو 1122)، ڈاکٹر رضوان نصیر نے ماہ جولائی کے دوران پنجاب بھر میں پیش آنے والے40,447روڈ ٹریفک حادثات میں 373 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع،20,899افراد کے شدید زخمی ہو کر ممکنہ مستقل معذوری کا شکار ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہ جولائی صوبہ میں اوسطا ہر 66 سیکنڈ میں ٹریفک حادثہ رپورٹ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی سروسز (ریسکیو 1122) نے جولائی کے دوران پنجاب بھر میں 2 لاکھ 43 ہزار 944 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس کرتے ہوئے 2 لاکھ 50 ہزار 893 متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کیں جن میں 2,196 کرنٹ، 1,995 آگ لگنے کے واقعات اور 249 ڈوبنے کے حادثات بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے ان خیالات کا اظہار ماہ جولائی کے تمام اضلاع کی ایمرجنسی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لینے کے موقع پر کیا۔ وہ ہفتہ کو منعقد ہونے والے ماہانہ آپریشنل کارکردگی جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں ڈائریکٹرز ایمرجنسی سروسز، مختلف ونگز کے سربراہان اور صوبائی مانیٹرنگ آفیسر نے شرکت کی، جبکہ تمام ضلعی ایمرجنسی افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام ضلعی ایمرجنسی افسران نے ماہ جولائی کے دوران اپنے اپنے اضلاع کی آپریشنل کارکردگی کے حوالے سے سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کو بریفنگ دی، جس میں اہم ایمرجنسیز، ریسپانس، آپریشنل چیلنجز پہ تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ ضلعی ایمرجنسی افسران نے مون سون سیزن کے پیش نظر سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں اور فلڈ ریسپانس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ،فلڈ ریسپانس آلات کی دستیابی، ریسکیو وسائل، واٹر و فلڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی، ایمرجنسی رسپانس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قائم کردہ رابطہ و کوآرڈینیشن میکنزم سے متعلق امور شامل تھے۔ ہیڈ آف آپریشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) نے گزشتہ ماہ جولائی کے دوران 243,944 ایمرجنسیز پر بروقت ایمرجنسی سروسز فراہم کیں،جن میں سب سے زیادہ ایمرجنسیز57,380 روڈ ایکسیڈنٹ اورٹراما کی تھیں، اس کے علاوہ46,809 دل کے امراض، 39,981 معدہ و نظام ہاضمہ، 19,560 سانس کی بیماریوں، 18,768 اعصابی امراض، 11,737 بخار،8,844 مثانہ کے امراض، 8,571امراضِ نسواں و زچگی، 6,046 نفسیاتی امراض، 5,837 شوگر،5,144جرائم ایمرجنسیز کی کال، 4,766ریڑھ اور جوڑوں کے درد، 409 الرجی کی ایمرجنسیز جبکہ 9,508 آگ لگنے اور ریسکیو سے متعلق ایمرجنسیز رپورٹ ہوئیں۔ ایمرجنسی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ ماہ کے دوران 40,447روڈ ٹریفک حادثات میں 373 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان ٹریفک حادثات میں صوبائی دارالحکومت لاہور میں سب سے زیادہ 7,250 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 7,868 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ ملتان میں 2,763 حادثات پیش آئے جن میں 3,255 موٹر سائیکلیں جبکہ فیصل آباد میں 2,516 حادثات میں 2,742 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں 1,950 حادثات میں 1,968 موٹر سائیکلیں جبکہ راولپنڈی میں 1,473 حادثات میں 1,473 موٹر سائیکلیں ملوث تھیں۔ سب سے کم حادثات تونسہ شریف میں رپورٹ ہوئے جہاں 146حادثات میں 158 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔اسی طرح آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات بڑے اضلاع میں ہوئے جن میں لاہور میں 455کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ فیصل آباد میں 149، راولپنڈی143،ملتان میں 109، گوجرانوالہ میں 97اورسرگودھا میں 71واقعات پیش آئے۔ سیکریٹری ایمرجنسی سروسز نے عوام سے اپیل کی کہ سیلابی علاقہ جات اور بارشوں کی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ انہوں نے خصوصا سیلابی و نشیبی علاقہ جات اور پہاڑی علاقوں میں جانے سے محتاط رہنے کی ہدایت کی جہاں دریاوں اور برساتی نالوں میں پانی کا بہاو خطرناک حد تک تیز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بارش کے دوران برقی کھمبوں، سوئچز اور کھلے برقی آلات سے دور رہیں اور زیر آب علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں تاکہ آپ اور آپ کے پیارے محفوظ رہیں۔








