فیصل آباد۔ 21 اگست (اے پی پی):پنجاب کا نہری نظام آبپاشی 58ہزار کھالوں پر مشتمل ہے جن کی ہیئت اور بناوٹ خراب ہوجانے کے باعث نصف سے زائد پانی ضائع ہوجاتا ہے تاہم آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ذریعے کھالوں کی اصلاح کے پروگرام کے ذریعے ان کھالوں کی استعداد کار بڑھائی جارہی ہے جس سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اصلاح آبپاشی نے بتایاکہ کھالوں …
پنجاب میں ھالوں کی ہیئت اور بناوٹ خراب ہوجانے کےباعث نصف سےزائد پانی ضائع ہورہا ہے،ماہرین

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 21 اگست (اے پی پی):پنجاب کا نہری نظام آبپاشی 58ہزار کھالوں پر مشتمل ہے جن کی ہیئت اور بناوٹ خراب ہوجانے کے باعث نصف سے زائد پانی ضائع ہوجاتا ہے تاہم آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ذریعے کھالوں کی اصلاح کے پروگرام کے ذریعے ان کھالوں کی استعداد کار بڑھائی جارہی ہے جس سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اصلاح آبپاشی نے بتایاکہ کھالوں کی اصلاح سے ضائع ہونے والے پانی میں نمایاں کمی اور کھالوں کی ٹیل پر واقع رقبوں کو زیر کاشت لانے میں مد د ملی ہے۔انہوں نے بتایاکہ کاشتکاروں کوپختہ نکہ جات کی تنصیب اور پلیوں کی تعمیر سے آبپاشی میں سہولت میسر آئی ہے اور کچے کھالوں سے پانی کے رساؤاور اس سے ملحقہ کھیتوں میں فصلوں کو ہونے والے نقصان کا بھی خاتمہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کھالوں کی غیر قانونی چوڑائی، گہرائی اور لمبائی کو کم کرکے مطلوبہ ڈھلوان کی تعمیر سے پانی کے بہاؤ کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ہر ماہ بھل صفائی پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے کاشتکار جو ذاتی ٹیوب ویل لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے وہ اب کھالوں کی اصلاح سے نہر ی پانی میں اضافہ کی بدولت اپنے رقبوں پر مختلف فصلوں کی کاشت کے قابل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ سے دیہی لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری اور پانی کی تقسیم کے سلسلہ میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں میں بھی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پختہ کھالوں کی تعمیر سے کھالوں اوروٹوں کے ساتھ موجود رقبہ کو کم کرکے فصلوں کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ ہوا ہے
اور آبپاشی کیلئے دستیاب پانی کے ہر قطرہ اور زرعی زمین کے ہر ایک انچ سے استفادہ حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔








