پنجاب کا بجٹ 2026-27 عوامی فلاح، ترقی اور معاشی استحکام کا عکاس ہے، مریم اورنگزیب ، مجتبیٰ شجاع الرحمان

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت گزشتہ ڈھائی سال سے کامیابی کے ساتھ عوامی خدمت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی اہم کامیابیاں سمیٹی ہیں

لاہور۔17جون (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت گزشتہ ڈھائی سال سے کامیابی کے ساتھ عوامی خدمت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی اہم کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کاوشوں سے پاکستان عالمی امن، علاقائی استحکام اور سفارتی میدان میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو 90 شاہراہ قائداعظم لاہور میں صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری، ارکان اسمبلی اور اعلی سرکاری افسران بھی موجود تھے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ عوامی فلاح، معاشی ترقی اور پائیدار استحکام کے وژن کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مشکل معاشی حالات، تباہ کن سیلاب اور محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی عمل کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ صوبائی بجٹ کا کل حجم 5903ارب 46 کروڑ روپے ہے ،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 752 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں کے بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔ سروس ڈیلیوری کیلئے 783 ارب 62 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ گذشتہ مالی سال سے 15 فیصد زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی، محکموں کی رائٹ سائزنگ اور مالی نظم و ضبط کے ذریعے وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں 12 ہزار 683 غیر فعال سکیمیں ختم کی گئیں جبکہ صوبائی ریونیو 426 ارب روپے سے بڑھ کر 820 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے رواں مالی سال میں 519 ارب روپے محصولات جمع کیے۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صنعت، زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔ صنعتوں کے فروغ کے لیے 300 ارب روپے کے قرضے پانچ فیصد شرح سود پر فراہم کیے جائیں گے جبکہ لینڈ لیز پالیسی کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں گے۔ کسان کارڈ فیز ٹو کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ کسان دوست پروگرام کے تحت اربوں روپے کے قرضے اور گزشتہ دو برسوں میں 31 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایکوا کلچر اور فشریز کے فروغ کے لیے 9 ارب 66 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید ماڈل فش مارکیٹیں قائم کی جائیں گی جبکہ پہلی مرتبہ شرمپ فارمنگ کے شعبے میں عملی اقدامات کرتے ہوئے 5 ہزار 500 ایکڑ پر شرمپ فارمز قائم کیے جا رہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب بھر میں یکساں ترقی کے وژن کے تحت تمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اور یہ تاثر درست نہیں کہ صرف لاہور میں کام ہو رہا ہے۔ کچے کے علاقوں کی ترقی، امن و امان اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے 38 ارب 86 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سکل ڈویلپمنٹ اور انٹرپرینیورشپ پروگراموں کے لیے بھی خطیر فنڈز رکھے گئے ہیں جبکہ وزیراعلی ہونہار سکالرشپ پروگرام کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 168 ارب روپے کی لاگت سے 2 ہزار ماحول دوست الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں گی جبکہ 164 ارب روپے کی لاگت سے صوبے بھر میں ڈویژنل اور تحصیل سطح پر جدید بس ڈپو تعمیر کیے جائیں گے۔ اس وقت 600 سے زائد جدید بسیں مختلف شہروں میں عوام کو سفری سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور اب تک سوا لاکھ سے زائد افراد کو قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ ہر سال ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد صفائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 169 ارب روپے کی لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور قائم کیا جا رہا ہے، 15 کارڈیک سرجری یونٹس کے قیام کے لیے 9 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ چلڈرن ہسپتال بہاولپور کے لیے 23 ارب 37 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں میڈیکل سٹی منصوبے اور دیگر ہسپتالوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔تعلیم کے شعبے میں وزیراعلی لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 15 ارب 69 کروڑ روپے جبکہ نئے کالجز کے قیام کے لیے 7 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت وزیراعلی پنجاب کی اولین ترجیحات ہیں اور ان شعبوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔سموگ کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھٹہ خشت پر کیو آر کوڈ سسٹم نافذ کیا جا چکا ہے اور سائنسی بنیادوں پر سموگ کے تدارک کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ دیہی علاقوں کو شہروں سے ملانے کے لیے سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ سیاحت کے فروغ کے لیے ٹورازم اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 42 ارب روپے نارتھ پوٹھوہار لیئر بیلٹ جبکہ 20 ارب روپے ریلیجیئس ٹریل پنجاب پراجیکٹ کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبی ٰشجاع الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی قیادت میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی رواں بجٹ میں عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ایسا مربوط ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جہاں تمام صوبائی ٹیکسوں کی وصولی ایک ہی چھت تلے ہوگی، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران دو سے ڈھائی لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جنگلات اور وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جبکہ بلدیاتی انتخابات بھی موجودہ حکومت ہی کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی مضبوطی تمام اکائیوں کی مضبوطی کی ضامن ہے اور پنجاب کے بجٹ میں عوام کے حقوق اور ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔