لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کیس کے ملزم کو 41 سال بعدبری کر دیا

لاہور ہائیکورٹ نے 1985 کے دوہرے قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے ملزم تاج دین کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس محمد امجد رفیق نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے

لاہور۔17جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے 1985 کے دوہرے قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے ملزم تاج دین کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس محمد امجد رفیق نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ مقدمے کے شواہد اور گواہیوں میں متعدد خامیاں اور تضادات موجود تھے۔فیصلے کے مطابق تاج دین کے خلاف 28 اکتوبر 1985 کو رحیم یار خان میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2017 میں جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ موثر طبی شواہد پیش نہیں کر سکا اور میڈیکل افسر کی عدالت میں عدم پیشی بھی پراسیکیوشن کے مقدمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات میں نمایاں تضادات پائے گئے جبکہ ان کی موقع پر موجودگی اور وقوعہ کے بیان پر بھی شکوک و شبہات موجود ہیں۔ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پولیس تفتیش اور شواہد میں خامیاں سامنے آئیں، جس کے باعث پراسیکیوشن کا مقدمہ شک و شبہات کا شکار ہو گیا۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ صرف شک کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی اور شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے۔عدالت نے عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے جیل حکام کو تاج دین کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔