ملکی وقار بلند کرنے پر صدر مملکت، وزیراعظم سمیت قومی قیادت کو خراجِ تحسین، سندھ کے ہیلتھ ماڈل کی تعریف، بجٹ میں عوامی ریلیف اور سندھ کے پانی و بجلی کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے مشکل وقت میں درست فیصلوں اور پالیسیوں کے ذریعے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کرنے اور امن پسندی ثابت کرنے پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے مشکل وقت میں درست فیصلوں اور پالیسیوں کے ذریعے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کرنے اور امن پسندی ثابت کرنے پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو مبارکباد پیش کی ہے، انہوں نے گلگت بلتستان میں جمہوریت کے فروغ اور پیپلز پارٹی کی کامیابی پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کی سیاسی محنت کو بھی سراہا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اپنے خطاب میں انہوں نے صحت کے شعبے میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے این آئی سی وی ڈی ، ایس آئی یو ٹی اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے عالمی معیار کے طبی اداروں کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔مثبت پہلوئوں کو اجاگر کرنے کے بعد انہوں نے عوامی اور صوبائی مسائل پر کھل کر بات کی اور کہا کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے پیشِ نظر عوام کو ایک بڑے ریلیف بجٹ کی امید تھی۔

انہوں نے نوجوانوں کے لئے ایڈوانس ٹیکنالوجی اور روزگار کے شعبوں میں وفاقی سرمایہ کاری کو نا کافی قرار دیا جبکہ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کاشتکاروں کو یوریا، ڈی اے پی، ڈیزل اور بجلی پر خصوصی سبسڈی دینے کا مطالبہ کیا۔ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے صوبائی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 1991 کے واٹر ایکارڈ کے تحت سندھ اور بلوچستان کو ان کے حصے کا آئینی پانی دیا جائے تاکہ کاشتکار بروقت فصلیں کاشت کر سکیں۔ انہوں نے کراچی کے لئے’’کے فور‘‘ (K-4) واٹر پروجیکٹ کی بروقت تکمیل کے لئے وفاق سے فعال اور فوری تعاون کا مطالبہ بھی دہرایا۔ تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں 26 ملین بچوں بالخصوص بچیوں کے سکولوں سے باہر ہونے پر تشویش ظاہر کی اور وفاقی حکومت سے لانگ ٹرم پالیسی بنانے سمیت تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان پر وزیر داخلہ سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون (G-11) میں پولی کلینک ہسپتال کی توسیع کا منصوبہ گزشتہ 5 سال سے تعطل کا شکار ہونے پر بھی وفاق کی توجہ مبذول کرائی۔

انہوں نے اپنے حلقہ پنوعاقل میں بجلی کی بدترین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جون کے شدید مہینے میں جب وہاں کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ گیا تو سیپکو نے کئی روز تک مسلسل لوڈ شیڈنگ کر کے عوام کی زندگی اجیرن کر دی۔ انہوں نے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے والے حکام کی بے حسی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر سے متعلقہ اداروں کو طلب کرنے اور اس اہم عوامی مسئلے پر باقاعدہ پارلیمانی رولنگ دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔