پولی کلینک ٹو ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، وفاقی وزیر صحت کی پمز میں گفتگو

ے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پولی کلینک ٹو ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، اس منصوبے میں فائر سیفٹی سمیت دیگر تمام ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نےکہا کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا، اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں سے اب بھی کہتا ہوں کہ ریاست …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پولی کلینک ٹو ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، اس منصوبے میں فائر سیفٹی سمیت دیگر تمام ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نےکہا کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا، اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں سے اب بھی کہتا ہوں کہ ریاست مخالف رویہ اختیار نہ کریں۔ اعتراضات اور اختلافات ضرور ہوتے ہیں، لیکن ریاست کو تباہ نہیں کیا جاتا۔وسائل کی تقسیم سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ قابلِ تقسیم محاصل میں سے 57.5 فیصد صوبوں کو دیا جاتا ہے۔ رواں سال صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ سندھ کو گزشتہ 17 برس کے دوران 22 ہزار ارب روپے ملے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے وسائل کے باوجود عوام تک بنیادی سہولیات کیوں نہیں پہنچ رہیں؟وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اور سندھ کے مسائل کا حل انتظامی یونٹس کو چھوٹے پیمانے پر منظم کرنے میں ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت نے کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ درج کی گئی، جبکہ 2023 کی مردم شماری میں یہ تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ بتائی گئی۔ وفاقی حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور مردم شماری میں چار مرتبہ توسیع دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، کیونکہ موجودہ نظام میں وسائل عوام تک نہیں پہنچ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ گزشتہ سات سال سے تباہ حال ہے، جس کے باعث پانچ سے سات لاکھ افراد کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی پر افسوسناک ہے،اندرون سندھ خواتین پانی حاصل کرنے کے لیے 12، 12 کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے حالات پر بات کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آتی۔ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔