وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیا گیا ہے، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس فیصلے میں اہم عنصر تھے، ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دے سکتے
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا، ایمرجنسی کا فیصلہ آئینی ہے، وفاقی وزیر قانون

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیا گیا ہے، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس فیصلے میں اہم عنصر تھے، ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دے سکتے، ضرورت پڑنے پر ان میں توسیع کی جا سکتی ہے۔منگل کو غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئین ریاستی نظام حکومت اور مختلف حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لئے کرنا ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جا سکتا تھا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور کردار ریکارڈ پر ہے، اگر دہشت گردی کے خاتمے کو ترجیح دینے کے بجائے سیاسی مفادات کے لئے لوگوں کو متحرک کیا جائے اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مربوط کوششیں نہ کی جائیں تو یہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جہاں تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لئے آئینی راستے اختیار کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، افغان جنگ کے بعد خطے میں دہشت گردی کے اثرات سامنے آتے رہے ہیں، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری اور قربانیوں کی مثالیں قائم کیں اور اس حوالے سے کوششیں آج بھی جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 2021ء سے 2024ء کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بعد کے اعداد و شمار میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، دہشت گردی سے متعلق یہ اعداد و شمار مختلف سرکاری اداروں نے وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر کئے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاک فوج قانون کے نفاذ اور داخلی امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ ملکی سرحدوں کا دفاع مسلح افواج کی بنیادی ذمہ داری ہے،صوبائی حکومتوں کی ضرورت پر مسلح افواج داخلی بدامنی پر قابو پانے کے لئے معاونت فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیا اور قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، بے گناہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مؤثر بنانے کے لئے متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے، پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات آئین کے تحت تقسیم ہیں اور دونوں حکومتیں اپنے آئینی و قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرتی ہیں۔








