سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کیے گئے ہیں جہاں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی، سید نیئر حسین بخاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کیے گئے ہیں جہاں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے حوالے سے بیان میں نیئر حسین بخاری نے کہا کہ آئین کے مطابق توثیق کے بعد 30 روز کے اندر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں ایمرجنسی کی مدت کی منظوری دی جائے گی، گورنر راج کی مدت آئین کے تحت چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا تسلسل صوبے کے حالات سے مشروط ہے، دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کے نتیجے میں حالات معمول پر آ جائیں تو ایمرجنسی ختم کی جا سکتی ہے، حکومت مناسب وقت پر ایمرجنسی ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد کے ذریعے بھی اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری جماعتیں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے طویل نفاذ کی خواہاں نہیں ہیں، اگر ایمرجنسی میں توسیع کی ضرورت پیش آئے تو آئینی طریقہ کار کے تحت صدر مملکت گورنر یا کسی دوسرے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے صوبے کے معاملات چلانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ ان کے مطابق سابقہ صوبائی قیادت کی توجہ طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کے بجائے بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر مرکوز رہی۔ انہوں نے کہا کہ ناقص طرز حکمرانی اور صوبائی حکومت کی ناکامی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیادی وجوہات بنیں۔انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔








