وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ معاشی استحکام کے تسلسل کوبرقراررکھنے اور پائیدارو برآمدات پر مبنی نمو کی جانب پیش رفت کے لیے ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے
معاشی استحکام کوبرقراررکھنے کے لیے ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا جیفریز کے زیر اہتمام سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ معاشی استحکام کے تسلسل کوبرقراررکھنے اور پائیدارو برآمدات پر مبنی نمو کی جانب پیش رفت کے لیے ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔ا نہوں نے یہ بات منگل کوبنکاک میں عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جیفریز کے زیر اہتمام سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں کہی۔ سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد بھی گول میز اجلاس میں شریک تھے۔وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کی صورت حال، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی پرروشنی ڈالی اور معاشی استحکام کو مستحکم کرنے اور پائیدار، برآمدات پر مبنی ترقی ونمو کی جانب پیش رفت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس پیش رفت کیلئے ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ملکیتی اداروں اور عوامی مالیات کے شعبوں میں اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔
اجلاس میں آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت، قرضوں کی پائیدار ادائیگی اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کی حکمت عملی، نیز مالی معاونت کے ممکنہ ذرائع بشمول سکوک پانڈا بانڈز کے مزید اجراء اور ٹوکنائزیشن پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اداروں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا۔وزیرخزانہ نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ، ڈیجیٹل ذرائع سے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور مالیاتی اہداف کے حوالے سے وفاقی و صوبائی رابطہ کاری کے امور پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ کاروں کے سوالات کے جواب میں پاکستانی وفد نے خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورت حال سے وابستہ خطرات، توانائی کے تحفظ، مائع قدرتی گیس سے متعلق ذمہ داریوں اور امریکہ و سعودی عرب کے ساتھ معاشی روابط پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے اصلاحات کے عمل جاری رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔








