ینگون ۔ 29 نومبر (اے پی پی) پوپ فرانسس نے میانمار کے دارالحکومت میں اپنے کلمات میں مذہبی اتحاد پر زور دیا جس میں روہنگیا افراد کی حالتِ زار کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ روز سفارت کاروں اور متمدن معاشرے کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ مذہبی اختلافات تقسیم یا بداعتمادی کی وجہ بنیں، بلکہ …
پوپ فرانس کا میانمار کے دارالحکومت میں خطاب، روہنگیا مسلمانوں کے تذکرے سے احتراز
ینگون ۔ 29 نومبر (اے پی پی) پوپ فرانسس نے میانمار کے دارالحکومت میں اپنے کلمات میں مذہبی اتحاد پر زور دیا جس میں روہنگیا افراد کی حالتِ زار کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ روز سفارت کاروں اور متمدن معاشرے کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ مذہبی اختلافات تقسیم یا بداعتمادی کی وجہ بنیں، بلکہ وحدت، درگزر، برداشت اور دانشمندانہ تعمیرِ وطن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پوپ نے کہا کہ میانمار کا مستقبل امن، انسانی حرمت کی بنیاد پر امن کو فروغ دیتے اور معاشرے کے ہر رکن کے حقوق، ہر نسلی گروپ اور اس کی شناخت کی حرمت کے تقاضوں کا خیال برتنے، قانون کی حکمرانی کی عزت، اور جمہوری عمل درای کو سربلند رکھنا چاہیئے، تاکہ ہر فرد اور ہر گروہ جس میں تمام شامل ہیں، سب کے مفاد کے لیے سودمند ثابت ہو۔









