اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ہے، پوری قوم سعودی ولی عہد کا شایان شان استقبال کرے گی، دورے کے دوران آئل ریفائنری، پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس اور معدنیات کے شعبے …
وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان کی صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ہے، پوری قوم سعودی ولی عہد کا شایان شان استقبال کرے گی، دورے کے دوران آئل ریفائنری، پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس اور معدنیات کے شعبے میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کےلئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے، وزیراعظم نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان ثالثی کے لئے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، سعودی عرب کے ولی عہد کے بعد آئندہ ماہ ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان کا دورہ کریں گے، سابق حکمرانوں نے قومی تعلقات کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے ذاتی تعلقات کو پروان چڑھایا، قطر اضافی ایل این جی فراہم کرنے کے لئے رضا مند ہے، نجی شعبہ کو بھی ایل این جی درآمد کرنے میں سہولت دیں گے، گیس بلوں میں اضافے کا آڈٹ ہو رہا ہے، سلیبز پر نظرثانی کی جائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ غلام سرور خان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر کردار ادا کیا ہے اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت 70 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، اب ملک میں دہشت گردی کو کافی حد تک ختم کردیا گیا ہے، پاکستان اب ایک پر امن ملک ہے ۔طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان میں امن کے لئے بھی ہمارا اہم کردار ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، 16 اور 17 فروری کو سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ ہے، 18 فروری کو طالبان کا وفد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا، برٹش ایئر ویز نے جون سے پاکستان میں پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لفتھانسا اور ایئر فرانس بھی یہاں کے لئے پروازیں چلانے کا سوچ رہی ہیں، اس نئے پاکستان کو بڑے عرصے بعد ایک دیانتدار قیادت نصیب ہوئی ہے، جب لیڈر دیانتدار ہو تو بیرونی دنیا کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امرات، ترکی، ملائیشیا اور چین کے دورے کئے ہیں، یہ تمام ہمارے اچھے دوست ممالک ہیں، پچھلے ماہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد پاکستان آئے تھے اور اس ماہ سعودی عرب کے ولی عہد آ رہے ہیں، مارچ میں ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان کا دورہ کریں گے، پاکستان کے ساتھ ان ممالک کے ساتھ نئے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کریں، سرمایہ کاری ہو گی تو یہاں سماجی و اقتصادی ترقی ہو گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے قومی تعلقات کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے ذاتی تعلقات کو پروان چڑھایا ہم ذاتی نہیں قومی تعلقات چاہتے ہیں، شخصیات نہیں ملک اور قوم اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ (آج) ہفتہ کو سعودی ولی عہد کا پوری قوم اور میڈیا پرتپاک اور شایان شان استقبال کرے گا، سعودی عرب کی تکنیکی ٹیمیں تین دورے پہلے ہی کر چکی ہیں، جنہوں نے دو دورے اسلام آباد اور ایک کراچی وگوادر کا کیا ہے، بہت سے معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، ہم توقع کر رہے تھے کہ سعودی عرب صرف ریفائنری اور پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس پر بات کرے گا لیکن برادر اسلامی ملک نے تو ایل این جی اور سٹوریج کی استعداد کے لئے بھی تعاون کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، معدنیات کے شعبے اورفاسفیٹ کھادیں تیار کرنے کی صنعت لگانے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے، اس کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں ونڈ مل اور دیگر منصوبوں میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہماری 1200 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر بھی مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ کے دوران آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے، ریفائنری کی دو لاکھ سے تین لاکھ بیرل یومیہ کی پیدوار کی استعداد ہو گی، ہم اس وقت 26 ملین ٹن کی سالانہ کھپت ہے اور 13.5 ملین ٹن ہماری ریفائنریز تیار کرتی ہیں جبکہ 55 فیصد خام تیل ہمٰں درآمد کرنا پڑتا ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ سعودی عرب ہمیں سالانہ تین ارب 20 کروڑ ڈالر کی موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت دے رہا ہے اور تین سال کے لئے یہ رقم 9 ارب 60 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئل ریفائنری کے قیام سے ہمیں سالانہ تیل کے درآمدی بل میں ایک ارب 20 ڈالر کی بچت ہو گی، معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑیں گے، پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس کے قیام کے لئے فوکل پرسن دونوں ممالک کی طرف سے مقرر کئے جا چکے ہیں، تکنیکی ٹیمیں بھی اپنا کام کر رہی ہیں، معدنیات کے شعبے میں بھی تعاون کے لئے دورے کے دوران ایک مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوں گے اور مجموعی طور پر آئل ریفائنری، پٹرو کیمیکلز کمپلیکس اور معدنیات کے شعبے میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سعودی سرمایہ کاری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں ایم او یو کے حوالے سے صوبوں کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی، منشیات کی روک تھام، نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون، جرائم کی روک تھام، موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت اور ثقافتی تعاون سمیت مجموعی طور پر مفاہمت کی 10 یادداشتوں پر دونوں ممالک کے حکام دستخط کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے، وزارت پٹرولیم اور اس کی ذیلی ادارے اپنی تنصیبات کے لئے سیکورٹی کا اپنا انتظام کر سکتے ہیں، قومی سلامتی کے حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پہلے بھی دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر لڑتے رہے ہیں، ایران کے ساتھ بھی اس شعبے میں تعاون کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کے ہمراہ قطر کا دورہ کیا اور رواں ماہ کے آخر میں بھی قطر کا ایک اور دورہ کرنے والے ہیں، قطر پاکستان کی افرادی قوت منگوانے کے لئے تیار ہے اور اضافی ایل این جی کی فراہمی پر بھی اس نے آمادگی ظاہر کی ہے، روسی کمپنی گیز پروم کی طرف سے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر، آف شور ڈرلنگ جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے، مارچ۔ اپریل تک آف شور ڈرلنگ کے حوالے سے خوشخبری آ سکتی ہے، ہمیں جہاں سے بھی سستی گیس ملے گی، حاصل کریں گے، نجی شعبہ کو بھی ایل این جی درآمد کرنے پر بھی سہولت دیں گے۔ گیس کے بلوں میں حالیہ اضافہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے آڈٹ کا حکم دیدیا گیا ہے، گیس سلیبز پر نظرثانی بھی کی جائے گی، ماچھی کے تاروجبہ آئل پائپ لائن کی تعمیر کے لئے تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ سابق حکومت کی طرف سے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب اس معاملے کی انکوائری کر رہا ہے، سپریم کورٹ بھی اس کو دیکھ رہی ہے، سابق وزیراعظم کو نوٹس دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوروں اور ڈاکوﺅں کا احتساب اپنی جگہ ہو گا، ہم تمام دوست ممالک اور اقوام عالم کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے کام کر رہے ہیں۔








