فیصل آباد۔ 20 نومبر (اے پی پی):شعبہ ہارٹیکلچر وفلوریکلچر کے ماہرین گلبانی و چمن آرائی نے پھولوں کے باغبانوں و کاشتکاروں کو گل عروسہ کی کاشت کیلئے بلب رواں ماہ نومبرکے آخر اور اگلے ماہ دسمبر میں لگانے کی ہدایت کی ہے اورکہاہے کہ چونکہ گل عروسہ کے بلب مختلف سائز کے ہوتے ہیں اسلئے گملوں کا انتخاب کرتے وقت بلب کے سائز کو مد نظر رکھا جائے اور بلب …
پھولوں کے باغبانوں و کاشتکاروں کو گل عروسہ کی کاشت کیلئے بلب رواں ماہ نومبر اوردسمبر میں لگانے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 20 نومبر (اے پی پی):شعبہ ہارٹیکلچر وفلوریکلچر کے ماہرین گلبانی و چمن آرائی نے پھولوں کے باغبانوں و کاشتکاروں کو گل عروسہ کی کاشت کیلئے بلب رواں ماہ نومبرکے آخر اور اگلے ماہ دسمبر میں لگانے کی ہدایت کی ہے اورکہاہے کہ چونکہ گل عروسہ کے بلب مختلف سائز کے ہوتے ہیں اسلئے گملوں کا انتخاب کرتے وقت بلب کے سائز کو مد نظر رکھا جائے اور بلب گملے کے کناروں سے 2سے 3انچ اندر ہونے چاہئیں۔
انہوں نے بتایاکہ گل عروسہ کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت 80سے لے کر 95تک اقسام کاشت کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گل عروسہ کے ایک بلب پر دو ڈنٹھل نکلتے ہیں جبکہ ہر ڈنٹھل پر 4سے6 پھول آتے ہیں جن کا قطر 8سے 9انچ ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ سرخ،ہلکے گلابی، نارنجی اور سفید رنگ کے پھول خوشبودار ہونے کے ساتھ کٹ فلاور کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ عام طور پر گل عروسہ کے پودے پر مارچ سے مئی تک پھول آتے ہیں مگر کچھ اقسام خزاں میں بھی پھول دیتی ہیں۔








