راولپنڈی۔20نومبر (اے پی پی):پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقدہ دو روزہ لائیوسٹاک جینیٹکس و جینومکس کانفرنس 2025 اختتام پذیر ہو گئی۔ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل سائنسز (آئی اے ایس) اور نیشنل سینٹر برائے لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس و جینومکس (این سی ایل بی جی اینڈ جی) کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز سائنسدانوں، جینیٹیسٹس، بریڈرز، انڈسٹری ماہرین، پالیسی سازوں اور طلبہ نے …
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں دو روزہ لائیوسٹاک جینیٹکس و جینومکس کانفرنس 2025 اختتام

مزید خبریں
راولپنڈی۔20نومبر (اے پی پی):پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقدہ دو روزہ لائیوسٹاک جینیٹکس و جینومکس کانفرنس 2025 اختتام پذیر ہو گئی۔ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل سائنسز (آئی اے ایس) اور نیشنل سینٹر برائے لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس و جینومکس (این سی ایل بی جی اینڈ جی) کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز سائنسدانوں، جینیٹیسٹس، بریڈرز، انڈسٹری ماہرین، پالیسی سازوں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے کہا کہ لائیو سٹاک جینیٹکس و جینومکس کانفرنس تحقیق پر مبنی جدت کے فروغ کا واضح ثبوت ہے جو پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جینیاتی اور جینومک تحقیقات کے ذریعے جانوروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی و فارمنگ نظاموں کا فروغ ممکن ہو گا۔
انہوں نے محققین، انڈسٹری پارٹنرز اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی تعاون پاکستان کو پائیدار اور غذائی طور پر محفوظ مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور میریٹوریس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ جینومک سلیکشن، پریسیژن بریڈنگ اور ڈیٹا پر مبنی فارمنگ مستقبل کے پیداواری نظام میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جدید تکنیکوں کے استعمال سے صحت مند جانور، بہتر فیڈ ایفیشنسی، بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت اور ماحول دوست جانوروں کی افزائش کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقی نتائج کو عملی سطح پر منتقل کرنے کے لیے جامعات، حکومتی اداروں، بریڈرز اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس میں شریک محققین اور ماہرین نے کہا کہ یہ فورم لائیوسٹاک صنعت میں جینیاتی اور جینومک تحقیق کے انقلابی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔
شرکاء نے ڈیری مویشی، بچھڑوں، ہیفرز، گوشت دینے والے جانوروں، بھیڑ اور بکریوں کی پیداواریت، مزاحمتی صلاحیت اور پائیداری میں بہتری سے متعلق نئی تحقیق اور تکنیکی جدت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر محققین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لیے جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔








