پینٹاگان نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ سہ فریقی سکیورٹی معاہدے(اے یو کے یو ایس)کی توثیق کر دی

واشنگٹن ۔5دسمبر (اے پی پی):پینٹاگان نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ سہ فریقی سکیورٹی معاہدے(اے یو کے یو ایس)کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت آسٹریلیا آئندہ 15 سال میں تین ورجینیا کلاس جوہری آبدوزیں حاصل کرے گا۔ اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ پانچ ماہ طویل جائزہ مکمل ہونے کے معاہدے کی توثیق کی ، جو صدر ٹرمپ کے امریکا فرسٹ …

واشنگٹن ۔5دسمبر (اے پی پی):پینٹاگان نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ سہ فریقی سکیورٹی معاہدے(اے یو کے یو ایس)کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت آسٹریلیا آئندہ 15 سال میں تین ورجینیا کلاس جوہری آبدوزیں حاصل کرے گا۔ اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ پانچ ماہ طویل جائزہ مکمل ہونے کے معاہدے کی توثیق کی ، جو صدر ٹرمپ کے امریکا فرسٹ ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے، معاہدے کے تحت آسٹریلیا آئندہ 15 سالوں میں کم از کم تین ورجینیا کلاس جوہری آبدوزیں حاصل کرے گا، جن کی فراہمی 2032 سے شروع ہوگی۔

امریکی کانگریس کی سی پاور کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ جو کورٹنی نے جائزے کی تکمیل کو قومی سلامتی کے مفاد کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2021 کا اے یو کے یو ایس معاہدہ تینوں ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار ہے، جو اس کی مضبوطی ظاہر کرتا ہے۔اے یو کے یو ایس کا مقصد آسٹریلیا کو جدید جوہری آبدوزوں سے لیس کرنے اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ بحرالکاہل کے خطے میں بالخصوص چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

معاہدے کی مجموعی لاگت 235 ارب امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے، جبکہ اس میں آسٹریلیا کو مستقبل میں اپنی آبدوزیں تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی شامل ہے۔آسٹریلیا کے وزیر صنعتِ دفاع پیٹ کونرائے نے امریکی جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معاہدے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے سفارشات پر عمل کرے گی۔ ان کے مطابق اے یو کے یو ایس ایک "طویل المدتی معاہدہ” ہے جو آنے والے کئی دہائیوں تک جاری رہے گا۔واضح رہے کہ آسٹریلیا نے 2021 میں فرانس کے ساتھ ڈیزل آبدوزوں کے اربوں ڈالر کے معاہدے کو منسوخ کر کےاے یو کے یو ایس پروگرام کو ترجیح دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔