واشنگٹن ۔24جنوری (اے پی پی):امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) نے نئی قومی دفاعی حکمتِ عملی جاری کر دی ہے، جس میں پورے مغربی نصف کرے میں امریکی مفادات کے تحفظ کو سب سے اہم دفاعی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ تاس کے مطابق دستاویز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج کی اولین ذمہ داری امریکی سرزمین کا دفاع ہے، اور اسی مقصد کے تحت مغربی نصف …
پینٹاگون نے نئی قومی دفاعی حکمتِ عملی جاری کر دی ، مغربی نصف کرے میں امریکی مفادات کے تحفظ کو سب سے اہم دفاعی ترجیح قرار

مزید خبریں
واشنگٹن ۔24جنوری (اے پی پی):امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) نے نئی قومی دفاعی حکمتِ عملی جاری کر دی ہے، جس میں پورے مغربی نصف کرے میں امریکی مفادات کے تحفظ کو سب سے اہم دفاعی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ تاس کے مطابق دستاویز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج کی اولین ذمہ داری امریکی سرزمین کا دفاع ہے، اور اسی مقصد کے تحت مغربی نصف کرے، آرکٹک سے لے کر جنوبی امریکا تک، امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
قومی دفاعی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب مغربی نصف کرے میں کسی بھی اہم جغرافیائی علاقے پر اثر و رسوخ یا رسائی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں گرین لینڈ، خلیجِ امریکا اور پانامہ کینال کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جبکہ منرو ڈاکٹرائن پر عمل درآمد کو بھی وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکہ اپنی توجہ داخلی دفاع اور انڈو پیسیفک خطے پر مرکوز رکھے گا، جس کے نتیجے میں دیگر خطوں میں اتحادیوں کو دی جانے والی فوجی معاونت محدود کر دی جائے گی۔ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور جزیرہ نما کوریا میں اتحادی ممالک کو اپنی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکی پالیسیوں کے باعث اتحادی ممالک نے دفاعی اخراجات کم رکھے، تاہم اب یہ روش ختم کی جا رہی ہے اور اتحادیوں کو اجتماعی دفاع کا منصفانہ بوجھ اٹھانا ہوگا۔
یوکرین تنازع کے حوالے سے واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری یورپ پر عائد ہوتی ہے اور نیٹو اتحادیوں کو قیادت اور عملی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔







