پی آئی اے کے مالی سال 2019 کے حسابات کی سالانہ رپورٹ جاری، ریونیو میں 43 فیصد اضافہ، خسارہ میں 59 فیصد کمی ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک

کراچی۔18 مئی(اے پی پی)پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن(پی آئی اے) نے مالی سال 2019 کے حسابات کی رپورٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمع کرا دی جس کے مطابق گزشتہ سال پی آئی اے کے ریونیو میں 43 فیصد اضافہ ہوا جبکہ خسارہ میں 59 فیصد کمی آئی ہے۔ پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پی آئی اے کے …

کراچی۔18 مئی(اے پی پی)پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن(پی آئی اے) نے مالی سال 2019 کے حسابات کی رپورٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمع کرا دی جس کے مطابق گزشتہ سال پی آئی اے کے ریونیو میں 43 فیصد اضافہ ہوا جبکہ خسارہ میں 59 فیصد کمی آئی ہے۔ پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک کی سربراہی میں قومی ائر لائن کے 2019 کے حسابات کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ریونیو میں43 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کسی ایک برس میں سب سے زیادہ اضافہ ہے اس طرح یہ گزشتہ برس کے103.5 ارب سے بڑھ کر147.5 ارب تک پہنچ گیا ،جبکہ پی آئی اے کے کل آپریشنل نقصان میں 2018 کے مقابلے میں2019 میں 76 فیصد ، ٹیکس اور ادائیگیوں سے پہلے 2018 کے مقابلے میں2019 میں خسارہ میں 59 فیصد کمی آئی ہے۔ آٹھ برس میں پہلی دفعہ پی آئی اے کوکل آمدن پر 7.8 ارب روپے کا خالص منافع دیکھنے میں آیا ہے جبکہ 2018 میں پی آئی اے کو کل آمدن پر 19.7ارب کا خسارہ ہوا تھا۔پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ نے ائر مارشل ارشد ملک کی سربراہی میں 2018-19 میں ائر لائن کی باگ دوڑ سنبھالی تو اس وقت مالی سال 2017 اور 2018 کے حسابات نامکمل اور التوا کا شکار تھے ۔ انتظامیہ نے پہلے 2017کے حسابات کو مکمل کیا اور بعد میں2018 کے حسابات کو مکمل کیا گیا جن کا اعلان ستمبر2019 اور دسمبر2019 میں کیا گیا تھا اور سالانہ اجلاس عام کا انعقاد بھی کیا گیا۔ اب جب مالی سال 2019 کے حسابات مکمل کر کے پیش کر دئے گئے ہیں جن کے بعد پی آئی اے کے مالی حسابات معاملات سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کی ہدایات کے مطابق مکمل ہو چکے ہیں ۔ تین برس کے مالی حسابات کو مہینوںمیں مکمل کرنا ایک معنی رکھتا ہے اور پی آئی اے کی ٹیم کی ادارے کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال 2019 کے نتائج میں اہم حصہ روٹس اور کرایوںمیں ردوبدل کے ذریعے حاصل کیا گیا جبکہ سخت مالیاتی نظم و ضبط قائم کر کے ریونیو میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گراﺅنڈ کئے گئے طیاروں کو دوبارہ سے کارآمد بنا کرفضائی آپریشن میں شامل کیا گیا جبکہ طیاروں کے لئے پرزہ جات کی فراہمی کو ممکن بنایا گیا جو کہ 2019 کی کارکردگی میں اہم حیثیت رکھتا ہے ۔ پی آئی اے نے 2019 میں19 ارب روپے سے زائد کا قرض بھی ادا کیا ۔ پی آئی اے کے سیٹ فیکٹر میں بھی 2018 کے مقابلے میں4 فیصد کاو اضح اضافہ دیکھنے میں آیا جو 77 فیصد سے بڑھ کر 81 فیصد ہو گیاجو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور ایئرلائن میں بہترین تصور کیا جاتا ہے ۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاندار مالی حسابات پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے کے شیئر ہولڈرز اور تمام ملازمین اور محنت کشوں کو مبارکباد دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 ہمارا بحالی کا سال تھا جس میں تمام ملازمین نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر بہت محنت کی جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا وہ جب سربراہ بنے تو پی آئی اے کے دو برس کا آڈٹ اور مالیاتی نتائج التواءکا شکار تھے اتنی قلیل مدت میں تین برس کا آڈٹ کروانا میری فنانس ٹیم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ائیر مارشل ارشد ملک نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان اور وزارت ہوابازی کا شکریہ ادا کیا جن کی مکمل سپورٹ پی آئی اے کو حاصل رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2020 ایک مشکل سال ہے کورونا کی وباءکے باعث عالمی سطح پر ہوا بازی کی صنعت زوال کا شکار ہوگئی ہے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی اور مشکل فیصلے کرنا ہوں گے مگر اللہ کی مدد شامل حال ہوگی اور ہم اس مشکل سے عہدا برآ ہوں گے۔وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے پی آئی اے انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پی آئی اے کی بہتری کے لئے مدد جاری رکھیں گے اور پی آئی اے کی بحالی اور تنظیم نو کے لئے حکومت اور وزارت پی آئی اے انتظامیہ کے اقدامات کی مکمل حمایت کرے گی۔