پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو)اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی)نے بین الاقوامی تجارت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے عزم کے تحت سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں ’خدیجہ ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام‘ کے تحت دو خصوصی سیشنز منعقد کیے جن کا مقصد مقامی کاروباری خواتین کو ڈیجیٹل تجارت، برآمدی تقاضوں اور پائیدار کاروباری طریقوں سے متعلق عملی معلومات فراہم کرنا تھاتاکہ وہ اپنے کاروبار کو عالمی مارکیٹ تک …
پی ایس ڈبلیو اور ٹی ڈی اے پی کا کاروباری خواتین کو عالمی تجارت میں بااختیار بنانے کے لیےخدیجہ پروگرام کو وسعت دینے کا عزم
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو)اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی)نے بین الاقوامی تجارت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے عزم کے تحت سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں ’خدیجہ ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام‘ کے تحت دو خصوصی سیشنز منعقد کیے جن کا مقصد مقامی کاروباری خواتین کو ڈیجیٹل تجارت، برآمدی تقاضوں اور پائیدار کاروباری طریقوں سے متعلق عملی معلومات فراہم کرنا تھاتاکہ وہ اپنے کاروبار کو عالمی مارکیٹ تک وسعت دے سکیں۔
ٹی ڈی اے پی اپنے ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویژن اور پی ایس ڈبلیو اپنے ڈیجیٹل تجارتی نظام کے ذریعے خواتین کے کاروبار کو عالمی تجارت کے مواقع تک رسائی فراہم کریں گے۔ دونوں ادارے اپنی جاری شراکت داری کے تحت کاروباری خواتین کو باقاعدہ تربیت، رہنمائی اور مارکیٹ سے رابطے کے ذرائع فراہم کریں گے۔ اس سے وہ عالمی تجارت کے قوانین کو سمجھنے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھانے اور بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے پائیداری کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہوں گی۔سیالکوٹ میں پی ایس ڈبلیو اور ٹی ڈی اے پی نے ’خدیجہ پروگرام‘ کے دوسرے مرحلے کے تحت ایک انٹرایکٹو فوکس گروپ ڈسکشن (ایف جی ڈی) منعقد کیا۔ یہ سیشن سیالکوٹ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے منعقد ہوا جس میں سیالکوٹ کی کاروباری خواتین سے براہِ راست رائے لی گئی تاکہ ڈیجیٹل تجارتی سہولتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور سرحد پار تجارت میں درپیش مشکلات کو دور کیا جا سکے۔
سیالکوٹ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر ڈاکٹر مریم نعمان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سیالکوٹ کے برآمدی صنعتی مرکز میں کاروباری خواتین کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔گوجرانوالہ میں کاروباری خواتین کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ایک جامع تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں نئی اور پہلے سے کاروبار کرنے والی خواتین کو کسٹمز کے طریقہ کار، آن لائن کاروبار سے جڑنے کے طریقے، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مالی سہولتوں تک رسائی اور ماحول دوست تجارت کے اصولوں کے بارے میں عملی تربیت دی گئی۔یہ سیشن گفٹ یونیورسٹی اور گوجرانوالہ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ گفٹ یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر محمد شاہد قریشی اور گوجرانوالہ ویمن چیمبر کی صدر یاسمین داؤد نے اس مشترکہ کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط ہونے کے ساتھ خطے کی کاروباری خواتین کو برآمدات کے لیے بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
سرحد پار تجارت کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کی پی ایس ڈبلیو اور ٹی ڈی اے پی کی کوششوں کے تحت ’خدیجہ پروگرام‘ صنفی مساوات پر مبنی معاشی ترقی کا اہم حصہ ہے ، اس اقدام کو تجارت میں صنفی مساوات کے لیے ڈبلیو ٹی او گلوبل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ پروگرام میں تجارتی سہولتوں کے ساتھ کاروباری صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دی گئی ۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف 2030 سے ہم آہنگ یہ پروگرام ڈیجیٹل سہولتوں، ماحول دوست اقدامات اور جامع تجارتی طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ پی ایس ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید آفتاب حیدر نے صنعتی مراکز تک پروگرام کی توسیع کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا، ”خدیجہ پروگرام کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ جیسے بڑے صنعتی مراکز تک پہنچانا ہمارے اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان بھر کے ہر کاروباری فرد کے لیے سرحد پار تجارت کو آسان بنایا جائے۔ دوسرے مرحلے میں خصوصی فوکس گروپ ڈسکشنز کے ذریعے ہم خواتین کاروباری رہنماؤں کی آرا براہِ راست حاصل کر رہے ہیں اور ایک جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی تجارتی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔
فوزیہ پروین چوہدری ایڈیشنل سیکرٹری ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویژن ٹی ڈی اے پی نے علاقائی سطح پر اس تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ پی ایس ڈبلیو کے ساتھ ہمارا تعاون اہم صنعتی شہروں کی کاروباری خواتین کو عالمی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے ضروری تربیت، سہولتوں اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کی مقامی صلاحیتوں کو ڈیجیٹل تجارتی سہولتوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اور پائیدار تجارت کے اصولوں کو فروغ دے کر ہم خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار کو پاکستان کی برآمدی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ان مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے پی ایس ڈبلیو اور ٹی ڈی اے پی پاکستان کے تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ کاروباری خواتین کو عالمی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے ضروری سہولتیں، روابط اور صلاحیتیں فراہم کی جا سکیں۔









