اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی گزشتہ 13 سے 14 برس سے صوبے میں اقتدار میں ہے تاہم اس طویل عرصے کے باوجود صوبے میں مؤثر امن و امان قائم نہیں …
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت 14برس اقتدار میں رہنے کے باوجود خیبرپختونخوا میں امن وامان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، سینیٹر عابد شیر علی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی گزشتہ 13 سے 14 برس سے صوبے میں اقتدار میں ہے تاہم اس طویل عرصے کے باوجود صوبے میں مؤثر امن و امان قائم نہیں کیا جا سکا۔پیر کو سینیٹ میں نقطہ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختوننخوا میں صوبائی قیادت کی توجہ ایک قیدی کے معاملات پر مرکوز ہے جبکہ وہاں کے عوام دہشت گردی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بجائے حکمران جماعت کی ترجیحات سیاسی نوعیت کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کا المناک سانحہ، سکیورٹی فورسز پر حملے اور سیاسی شخصیات کے قتل جیسے سنگین واقعات پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پیش آئے جو صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کا واضح ثبوت ہیں۔سینیٹر عابد شیر علی نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت تمام صوبوں کو یکساں بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے گئےتاہم خیبرپختونخوا میں ان وسائل کا مؤثر استعمال نظر نہیں آتا۔
انہوں نے صوبے کے وزیر اعلیٰ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گورننس اور عوامی تحفظ پر توجہ دینے کی بجائے پشاور سے اسلام آباد اور دیگر شہروں کی جانب سیاسی مارچوں میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام پانچ بجے کے بعد پشاور میں عام شہری آزادانہ نقل و حرکت سے قاصر ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ بھاری سکیورٹی کے حصار میں ملک بھر کے دورے کرتے ہیں۔سینیٹر عابد شیر علی نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ اور سکون میسر آ سکے۔








