اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) ملک کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمےر کے 22 ہزار 892 سرکاری اداروں و دفاتر کو شمسی توانائی پر منتقل کےاجائے گا۔ وزارت منصوبہ بندی کی دستاویز نےشنل اےکشن پلان کے تحت ایسے ادارے جن مےں پہلے سے بجلی موجود نہےں ہے ان میں سرکاری اداروں کو سولر پینلز کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کی تجویز پیش کی …
چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمےر کے ہزاروں سرکاری اداروں و دفاتر کو شمسی توانائی پر منتقل کےاجائے گا، وزارت منصوبہ بندی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) ملک کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمےر کے 22 ہزار 892 سرکاری اداروں و دفاتر کو شمسی توانائی پر منتقل کےاجائے گا۔ وزارت منصوبہ بندی کی دستاویز نےشنل اےکشن پلان کے تحت ایسے ادارے جن مےں پہلے سے بجلی موجود نہےں ہے ان میں سرکاری اداروں کو سولر پینلز کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بجلی کی سہولت کے بغیر سب سے زیادہ ادارے سندھ میں ہیںجہاں ان سرکاری اداروں کی تعداد 11 ہزار 601 ہے جبکہ پنجاب میں 2 ہزار 333 اور خیبر پختونخوا میں 3 ہزار 130 ادارے بغیر بجلی کی سہولت کے کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بجلی کی سہولت کے بغیر سرکاری فرائض کی انجام ہی میں مصروف اداروں کی تعداد 2 ہزار 871 ہے۔ مزید برآں گلگت بلتستان میں ایسے اداروں کی تعداد 195 اور آزاد کشمیر میں 2 ہزار 668 ہے۔ پنجاب میں ضلع ڈیرہ غازی خان میں923، رحیم یار خان 989، سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں 1459، تھر پارکر میں 3834، سجاول میں 1507، گھوٹکی میں 1539، عمر کوٹ میں 1741، خیبر پختونخوا میں کوہستان میں 1012، بٹگرام میں 693، دیر بالا میں 669، بلوچستان میں چاغی میں 234، آوران میں 263، ڈیرہ بگٹی میں 332، خضدار میں 600، کچھی میں 392، گلگت بلتستان میں استوار میں 77، سکردو میں 218، آزاد جموں و کشمیر میں پونچھ میں 699، مظفر آباد میں 728، حویلی میں 233، ہٹیاں میں 333 اور سدھنوتی میں 419 اداروں اور دفاتر میں بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے ۔








