فیصل آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹوریٹ زرعی تحقیقاتی ادارہ چارہ جات کے ماہر ین نے بتایا کہ جانوروں کو خریف سیزن میں چاروں کی معیاری اقسام کی وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کے بیجوں کی بروقت فراہی کیلئے اقدامات تیزکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈاپٹیو ریسرچ پنجاب کے فیلڈایریاز میں کئے گئے تجربات سے ثابت ہواہے …
چاروں میں مکئی، جوار، سدا بہار، باجرہ، گوارہ، رواں، مارٹ گراس، روڈ گراس، نیپئر گراس اور جنتر اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں، ماہرین

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹوریٹ زرعی تحقیقاتی ادارہ چارہ جات کے ماہر ین نے بتایا کہ جانوروں کو خریف سیزن میں چاروں کی معیاری اقسام کی وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کے بیجوں کی بروقت فراہی کیلئے اقدامات تیزکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈاپٹیو ریسرچ پنجاب کے فیلڈایریاز میں کئے گئے تجربات سے ثابت ہواہے کہ اگر کاشتکا زمین کا صحیح انتخاب وتیاری، اچھا بیج، مناسب اور متناسب کھادوں کا استعمال، بروقت کاشت، برداشت اور دیگر زرعی عوامل اور ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں تو خریف چارہ جات کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں اور ان چاروں کاسائیلج تیار کر کے چارہ کو لمبے عرصہ تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
ماہر ین نے بتایا کہ خریف سیزن میں سبز چارہ جات میں کمی کی بنیادی وجہ کاشتکاروں کی سبز چارہ کی ترقی دادہ اقسام کے بیج اور جدیدپیداواری ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت ہے۔انہوں نے بتایا کہ زراعت (توسیع) کے فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریف سیزن چاروں مکئی، جوار، سدا بہار، باجرہ، گوارہ، رواں، مارٹ گراس، روڈ گراس، نیپئر گراس اور جنتر کی اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل کریں۔انہوں نے بتایا کہ چارہ کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے خریف سیزن چاروں کی بروقت کاشت،جڑی بوٹیوں کی تلفی،ضررساں کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ ضروری ہے۔








