چودھویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے پاکستان کی تیاریاں تیز، تینوں میزبان شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری

پاکستان میں 3 سے 11 اپریل 2027 تک دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد منعقد ہونے والے چودھویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لئے تیاریوں میں تیزی آ گئی ہےجبکہ تینوں میزبان شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں 3 سے 11 اپریل 2027 تک دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد منعقد ہونے والے چودھویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لئے تیاریوں میں تیزی آ گئی ہےجبکہ تینوں میزبان شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔ علاقائی کثیر کھیلوں کے اس اہم ایونٹ کی پاکستان واپسی ملک کے لئے باعثِ فخر ہے اور یہ ملک کو جنوبی ایشیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے سامنے اپنی کھیلوں کی سہولیات، تنظیمی صلاحیتوں، کھیلوں کے ٹیلنٹ، ثقافت اور معروف مہمان نوازی کو اجاگر کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

ساؤتھ ایشین گیمز میں 28 کھیلوں کے 346 میڈل ایونٹس شامل ہوں گے جبکہ خطے کے مختلف ممالک کے کھلاڑی تینوں میزبان شہروں میں قائم 28 مقابلوں کے مقامات پر حصہ لیں گے۔پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے مقابلوں اور تربیتی وینیوز، رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور دیگر انتظامی و عملی ضروریات کے حوالے سے جامع تیاریوں پر کام کر رہا ہے۔ وینیوز کی تیاری اور وسیع تر انتظامات کا جائزہ ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل (ایس اے او سی ) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے بھی 23 اور 24 اگست کو اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے دوران لیا۔ اجلاس میں بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے نمائندوں نے ذاتی طور پر شرکت کی جبکہ بھارت نے ورچوئل طور پر اجلاس میں شرکت کی۔

کمیٹی کو لاہور اور پشاور میں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس کے بعد وفد نے اسلام آباد میں مختلف مقابلوں کے وینیوز کا دورہ بھی کیا۔اسلام آباد کے دورے کے دوران ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کے وفد نے پاکستان سپورٹس کمپلیکس کا دورہ کیا جہاں پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یا ور حسین نے وفد کو دستیاب کھیلوں کی سہولیات، انفراسٹرکچر اور ساؤتھ ایشین گیمز کے لئے جاری تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ یاور حسین نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کے لئے بے حد فخر اور تمام متعلقہ اداروں کے لئے ایک اہم ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے تاکہ ہمارے وینیوز اور معاون سہولیات جنوبی ایشیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے استقبال کے لئے مکمل طور پر تیار ہوں۔

ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کے حالیہ دورے نے ہمیں علاقائی اولمپک قیادت کو اپنی تیاریوں کے بارے میں بریف کرنے اور ان کی آراء اور مشاہدات حاصل کرنے کا اہم موقع فراہم کیا، ہم اس بات کے لئے پرعزم ہیں کہ پاکستان ساؤتھ ایشین گیمز کے ایک پیشہ وارانہ انداز میں منظم، یادگار اور کامیاب ایڈیشن کی میزبانی کرے۔انہوں نے کہا کہ وینیوز کی تیاری متعلقہ کھیلوں کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے جبکہ جہاں ضرورت ہے وہاں ضروری مرمت، بحالی، اپ گریڈیشن اور دیگر کام جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقصد یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو مناسب مقابلوں اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں اور تمام وینیوز گیمز کے لئے عملی طور پر مکمل طور پر تیار ہوں۔

ساؤتھ ایشین گیمز پاکستانی کھلاڑیوں بالخصوص ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کے لئے بھی ایک اہم موقع ثابت ہوں گے کہ وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر اپنے خاندانوں، مداحوں اور پاکستانی عوام کی موجودگی میں مقابلوں میں حصہ لیں اور ایک بڑے علاقائی کثیر کھیلوں کے ایونٹ میں قیمتی تجربہ حاصل کریں۔کھیلوں کے مقابلوں کے علاوہ ساؤتھ ایشین گیمز پاکستان کو اپنی کھیلوں کی صلاحیت، انفراسٹرکچر، تنظیمی استعداد، ثقافت اور مہمان نوازی کو اجاگر کرنے کا قیمتی پلیٹ فارم بھی فراہم کریں گے جبکہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان کھیلوں کے روابط، دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان کے لئے دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی ملک کے کھیلوں کے منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ کھیلوں کے انفراسٹرکچر اور نوجوان کھلاڑیوں کے لئے ایک دیرپا ورثہ تشکیل دینے کا بھی موقع فراہم کرے گی۔ جوں جوں اسلام آباد، لاہور اور پشاور اپریل 2027 میں جنوبی ایشیا کی کھیلوں سے وابستہ برادری کے استقبال کی تیاری کر رہے ہیں پاکستان اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ چودھویں ساؤتھ ایشین گیمز کو کھیلوں کے ذریعے دوستی، تعاون اور اتحاد کے جذبے کے تحت پیشہ وارانہ انداز میں منظم، یادگار اور کامیاب ایونٹ بنایا جائے۔