چک 30 ج ب میں آر ایچ سی کی نئی عمارت کا افتتاح، عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے، رانا ثناء اللہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، پنجاب حکومت وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں ایسے متعدد اقدامات کر رہی ہے جن کے ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں تاہم سرکاری صحت مراکز میں غریب اور امیر مریض کے ساتھ یکساں …

فیصل آباد ۔ 20 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، پنجاب حکومت وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں ایسے متعدد اقدامات کر رہی ہے جن کے ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں تاہم سرکاری صحت مراکز میں غریب اور امیر مریض کے ساتھ یکساں عزت و احترام اور معیاری علاج کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چک نمبر 30 ج ب امین پور میں رورل ہیلتھ سنٹر (آر ایچ سی) کی نئی تعمیر ہونے والی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر آر ایچ سی کو جدید الٹراساؤنڈ مشین بھی فراہم کی گئی جبکہ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر شہزاد، سابق ایم پی اے میاں اجمل آصف، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی قائدین اور علاقے کے معززین سمیت لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ہزاروں بے زمین کسانوں کو چار، چار ایکڑ اراضی فراہم کی ہے ، ان میں ایسے کسان بھی شامل تھے جن کی زمینوں پر قبضے ہو چکے تھے یا انہیں زمین فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔ اسی طرح کاروبار کو فروغ دینے اور لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہمت کارڈ متعارف کرایا گیا ہے جسے عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آر ایچ سی کی بھی ری ویمپنگ کی گئی ہے اور صحت مراکز کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آؤٹ سورسنگ کا مقصد کسی ڈاکٹر یا ماہر کو مرکز صحت کے انتظام کی ذمہ داری دینا ہوتا ہے تاکہ اسے بہتر انداز میں چلایا جا سکے جبکہ اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے اور متعلقہ ڈاکٹر اپنے منافع کے ساتھ مرکز کو چلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض چھوٹے سکول دس مرلے یا ایک کنال جیسی محدود جگہ پر قائم ہونے کے باوجود والدین کی ترجیح بنے ہوئے ہیں ، اس لیے حکومت نے سکولوں اور صحت کے مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آؤٹ سورسنگ کے امکانات پر بھی توجہ دی ہے۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر عوام یہ چاہتے ہیں کہ آر ایچ سی اور بنیادی مراکز صحت آؤٹ سورس نہ کیے جائیں تو چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ سے لے کر تمام طبی و انتظامی عملے تک ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے ساتھ حسن سلوک، عزت و احترام اور معیاری علاج کو یقینی بنایا جائے اور غریب مریض کو بھی وہی توجہ اور سہولت دی جائے جو ایک بااثر یا صاحب حیثیت شخص کو دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری صحت مراکز میں عوام کو بہترین علاج اور بہتر رویہ ملے گا تو انہیں آؤٹ سورس کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ موجودہ معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے تاہم پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے اثرات بجلی سمیت دیگر شعبوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی دباؤ کی ایک بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور تجارت سے متعلق مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور باب المندب میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر مشکلات بڑھی ہیں اور ان کے اثرات مختلف ممالک کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں ملک کو سیاسی انتشار کے بجائے امن، استحکام اور اتحاد کی ضرورت ہے، بعض قوتیں ملک کو مشکل صورتحال میں دیکھ کر جلسے ، جلوس اور مارچ شروع کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاہم حکومت ایسے عناصر سے بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر اہم کوششیں کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کی صورت میں ایران سے تیل اور گیس کی فراہمی کے امکانات پیدا ہوں گے جس سے توانائی کی قیمتوں میں کمی اور پاکستان کو معاشی ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خادم حرمین شریفین تو پہلے ہی تھا، اب اسے محافظ حرمین شریفین بننے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر دوسروں کے دفاع میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو بھرپورجواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کو درپیش مشکلات میں کمی آ سکتی ہے تاہم اس کے لیے قومی اتحاد، امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت، اداروں اور عوام کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو ملک کے مشکل حالات کو سیاسی انتشار کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔

مزید خبریں