چھوٹے دکانداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی سکیم پرانجمن تاجران کے ساتھ مل کرعمل درآمدکریں گے،بجٹ میں تمام طبقات اورشعبوں کوریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وزیرمملکت برائے خزانہ کی پریس بریفنگ

چھوٹے دکانداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی سکیم پرانجمن تاجران کے ساتھ مل کرعمل درآمدکریں گے،بجٹ میں تمام طبقات اورشعبوں کوریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وزیرمملکت برائے خزانہ کی پریس بریفنگ

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ چھوٹے دکانداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی سکیم پرانجمن تاجران کے ساتھ مل کرعمل درآمدکریں گے،بجٹ میں تمام طبقات اورشعبوں کوریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پائیدارطریقے سے معیشت کوآگے لے جانا چاہتے ہیں۔ بدھ کووفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ سوشل میڈیا کوآئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے کلیدی نکات پربریفنگ دیتے ہوئے وزیرمملکت نے کہاکہ بجٹ تنخواہ دارطبقہ،زراعت،خواتین، نوجوانوں، صنعتوں اورملکی معیشت کوآگے لے جانے والے اقدامات پرمبنی ریلیف بجٹ ہے۔

بجٹ میں زراعت کے شعبہ کوخصوصی ترجیح دی گئی ہے، زراعت کی مدمیں صرف پی ایم یوتھ پروگرام کے تحت 110ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے،زرعی مشینری پرڈیوٹیز میں واضح کمی گئی ہے، 88ارب روپے کے ایکسپورٹ فنانس سکیم کاایک حصہ زراعت کیلئے ہوگا،ترقیاتی بجٹ میں سے بھی 4.1ارب روپے زراعت کے منصوبوں کیلئے مختص ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ حکومت نے روزگارکے مواقع بڑھانے والے اقدامات کئے ہیں عوام کوممکنہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا بجٹ ہے جس میں عوام کیلئے ریلیف ہے،ہم پائیدارطریقے سے معیشت کوآگے لے جانا چاہتے ہیں۔

ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ تعلیم اورصحت صوبائی امورہیں تاہم وفاق بھی اپنا رابطہ کاری کاکردارموثرطریقے سے اداکررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ بی آئی ایس پی کیلئے 838ارب روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں ، بی آئی ایس پی کے تحت خواتین کے ذریعہ ایک کروڑ سے زیادہ خاندانوں کومعاونت فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خواتین کے فلاح وبہبود کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں، خواتین کی تولیدی صحت کی بہتری کیلئے سیلزٹیکس میں استثنا دیاگیاہے۔

وزیرمملکت نے کہاکہ تاجروں اوردکانداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے مشاورت سے اقدامات کئے جارہے ہیں ، ماضی کی حکومتوں نے کوشش کی ہے مگرانہیں کامیابی نہیں ملی۔اس وقت 35لاکھ دکاندارٹیکس نیٹ سے باہرہے جنہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے سکیم متعارف کرائی گئی ہے ، ہم انجمن تاجرا ن کے ساتھ مل کر اس پرعمل درآمدکریں گے۔

وزیرمملکت نے کہاکہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،اوورسیز پاکستانیوں کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کیلئے ترسیلات زرپر پاکستان ریمٹینس انیشی ایٹو کے تحت سبسڈائز شرح رکھی گئی ہے۔

مزید خبریں