چھ ماہ میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سےمتجاوز

چین میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا۔

بیجنگ۔29جولائی (اے پی پی):چین میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا۔

سی جی ٹی این کے مطابق چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ نے بدھ کو رواں سال کی پہلی ششماہی کے لاجسٹکس سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181.1 ٹریلین یوآن رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.1 فیصد زیادہ ہے۔ یہ شرح اسی عرصے کے دوران مجموعی جی ڈی پی کی شرح نمو سے 0.4 فیصدی پوائنٹس زیادہ رہی۔ پہلی سہ ماہی میں 6.2 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 4.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کے ترجمان جو ژی چھینگ نے بتایا کہ سماجی لاجسٹکس کے مجموعی حجم میں مستحکم اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے ڈھانچے میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ، جدید آلات و ٹیکنالوجی اور عوامی استعمال کی اشیاء سے متعلق لاجسٹکس کی طلب روایتی شعبوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ بین الاقوامی، اعلیٰ معیار اور ماحول دوست ترقی کا رجحان بھی نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے۔