اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس جمعہ کو یہاں چیئرمین آغا سید رفیع اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیرون ملک وزٹ ویزوں پر جا کر پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے، ای او بی آئی میں بے ضابطگیوں اور مزدوروں کی رجسٹریشن سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے اس بات کو سراہا کہ پنشن کے …
چیئرمین آغا سید رفیع اللہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس جمعہ کو یہاں چیئرمین آغا سید رفیع اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیرون ملک وزٹ ویزوں پر جا کر پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے، ای او بی آئی میں بے ضابطگیوں اور مزدوروں کی رجسٹریشن سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے اس بات کو سراہا کہ پنشن کے 2,416 کیسز کمیٹی کی نگرانی کے بعد نمٹائے گئے تاہم اس بات پر زور دیا کہ جزوی پیشرفت ناکافی ہے، تمام بقیہ کیسز کو بھی فوری اور شفاف طریقے سے نمٹایا جائے۔ای او بی آئی کے معاملات پر کمیٹی نے بورڈ کو ہدایت کی کہ بقایا 745 پنشن کے دعوئوں کو حتمی شکل دیں اور زیر التواء اور طے شدہ مقدمات کا ایک مکمل، لائن بہ لائن رجسٹر فراہم کریں۔ کمیٹی نے ریجنل دفاتر (خاص طور پر سرگودھا اور ڈی آئی خان) کے لئے رجسٹریشن کے اعدادوشمار، سروس ڈیلیوری میٹرکس اور اصلاحی اقدامات کے ساتھ تعمیل کی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔
کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ دیگر ہدایات میں اس کے ایک سابق چیئرمین کی طرف سے کارکنوں کی محنت سے کمائی گئی رقم کے مبینہ بے قاعدہ استعمال کا معاملہ بھی شامل تھا۔ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ تقریباً 2.4 ملین روپے ورکرز کے فنڈز سے نکالے گئے اور ڈی ایچ اے گالف کلب، کراچی اور اسلام آباد کلب کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ اس وقت زیر سماعت ہے تاہم کمیٹی نے ہدایت کی کہ غلط طور پر استعمال شدہ فنڈز کی وصولی اور قانون کے مطابق احتساب کو یقینی بنانے کے لئے کیس کی فوری پیروی کی جائے۔ ایف آئی اے حکام نے سمگلنگ اور مائیگریشن کنٹرولز ، کمبوڈیا میں غیر قانونی نقل مکانی کے راستوں اور متعلقہ سمگلنگ نیٹ ورکس کے بارے میں جاری انکوائریوں پر اجلاس کو بریف کیا۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر کمبوڈیا کے کیسز پر ایک مضبوط
شواہد پر مبنی ڈوزیئر پیش کیا جائے اور آف لوڈنگ کے نظرثانی شدہ قوانین اور نئے خطرے کے تجزیہ پروٹوکول کو پیش کیا جائے جو زیادہ خطرے والے مسافروں کی شناخت کے لئے بنایا گیا ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ان معاملات پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔سیکرٹری اوورسیز نے اجلاس کو بتایا کہ چیئرمین ای او بی آئی کا عہدہ خالی ہے اور اس کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو مراسلہ ارسال کیا جا چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کمیٹی نے دو ماہ قبل ہی ایک ماہ کی مہلت دی تھی لہٰذا مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے ای او بی آئی کے اثاثوں، سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو، کرایہ کی آمدنی کے سلسلے اور رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز کی جانچ پڑتال کے لئے ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، فرحان چشتی، محمد الیاس چوہدری اور فتح اللہ پر مشتمل ایک چار رکنی ذیلی کمیٹی قائم کردی۔اراکینِ کمیٹی نے اجلاس کا ایجنڈا بروقت فراہم نہ کرنے پر اعتراض کیا جس پر چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ اگر اجلاس سے تین دن قبل ایجنڈا فراہم نہ کیا گیا تو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ناصر اقبال بوسال، ذوالفقار علی بھٹی، ارم حامد، ماہ جبین خان عباسی، فتح اللہ خان، ذوالفقار علی بھہن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، فرحان چشتی، صوفیہ سعید شاہ اور محمد الیاس چوہدری کے علاوہ وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








