اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ کونسل نے 217ویں اجلاس میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپلوڈ کرنے پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات غیر اسلامی اور آئین پاکستان کے دفعہ 227 (I) کے ساتھ متصادم قراردیا ہے،بچوں پر جنسی تشدد کے سدباب کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام …
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ کونسل نے 217ویں اجلاس میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپلوڈ کرنے پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات غیر اسلامی اور آئین پاکستان کے دفعہ 227 (I) کے ساتھ متصادم قراردیا ہے،بچوں پر جنسی تشدد کے سدباب کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی سفارش کرتے ہیں، زبردستی مذہب تبدیل کرانا نہ صرف احکام اسلام سے متصادم ہے بلکہ آئین پاکستان کی دفعہ 20 کے بھی منافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا 217واں اجلاس 7 اور 8 جنوری کو منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی کے 6 جنوری کے اجلاس دوران سوشل میڈیا پر حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس، تمام انبیاءکرام، صحابہ کرام، امہات المومنین اور اہل بیت کے بارے میں توہین آمیز مواد اپلوڈ کرنے پر پابندی کے حوالے سے پیش ہونے والی قرار داد کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے پر مکمل پابندی لگائی جائے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے آرڈیننس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور قرار پایا کہ نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات غیر اسلامی ہیں اور آئین پاکستان کی دفعہ 227 (I) کے ساتھ متصادم ہیں، جس کے مطابق پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔کونسل نے قرار دیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 14(ڈی)، دفعہ15(اے) اور دفعہ 26 غیر شرعی ہیں کیونکہ ان کے مطابق بے گناہی ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے، ملزم کے لیے پلی بارگین کی اجاز ت ہے اور وعدہ معاف گواہ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل نے نیب آرڈیننس کا عمومی جائزہ بھی لیا، جس میں قرار پایا کہ ہتھکڑی پہنانا، الزامات عائد کر کے ذرائع ابلاغ میں تشہیر کرنا اور ملزم کو بغیر مقدمے کے لمبے عرصے تک قید میں رکھنا اسلامی اصول، تکریم انسانیت اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر نیب کا قانون اپنے اندر اس قدر سقم رکھتا ہے کہ اسے دین اسلام کے قانون جرم و سزا کے ساتھ ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ جنسی رویوں میں تبدیلی کا عمل باقاعدہ فکر بن گیا ہے اور کافی تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ہم ایک نئے دور جنسیات میں داخل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے پھیلاو¿ کی وجہ سے دنیا مختلف حصوں پر مشتمل بفرزون قائم نہیں رکھ سکی، بلکہ ایک ہی بفرزون کی صورت بن گئی ہے لہذا انتظامی وتعلیمی بہتری کے لیے تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ پرائمری سکول سے ہی ماہرنفسیات کی خدمات حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے جو چائلڈ سائیکالوجی سکھائے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں پر جنسی تشدد کے سدباب کے لیے تجویز کیا کہ ابتدائی مرحلہ میں خصوصی پولیس سٹیشن یا کم از کم ایک خصوصی سیل اس مقصد کے لیے قائم کیا جائے اور دوسرے مرحلے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اس گھناو¿نے جرم کے روکنے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی بھی سفارش کی جو فوری اور جلد از جلد سماعتی مراحل مکمل کرکے سخت سزا کے نفاذ کو یقینی بناسکے۔چیئرمین نظریاتی کونسل نے کہا کہ اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب پر کونسل قبل ازیں غور وفکر کر کے طے کرچکی ہے کہ زبردستی مذہب تبدیل کرانا نہ صرف احکام اسلام سے متصادم ہے بلکہ آئین پاکستان کی دفعہ 20 کے بھی منافی ہے۔ کونسل اس مسئلہ کا واقعاتی مطالعہ کرنا چاہتی ہے اس لیے کونسل اقلیتوں کو اپنے ہاں مدعو کرکے ان کی آراءحاصل کرے گی نیز ان علاقوں کا دورہ بھی کرے گی جہاں ایسے واقعات بکثرت ہوتے ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی کے واقعات اور کیمپسوں میں اخلاق باختگی کے حوالے سے کونسل نے سفارش کی کہ 2003ءکے دوران اور بعد کے سالوں میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جنرل(ر) پرویز مشرف کی متعارف کردہ پالیسیوں کی بھرپور تعلیمی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے، تاکہ وہ ان پالیسیوں کے تعلیمی، علمی، نفسیاتی اور اخلاقی اطلاقات/ اثرات کا بھرپور جائزہ لے اور متبادلات تجویز کرے۔








