چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی سے فیملیز سیٹ فری کے چیف ایگزیکٹو کی قیادت میں وفد کی ملاقات

چیئرمین سینیٹ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان میں اینٹوں کے بھٹہ جات کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس صنعت میں جبری مشقت کے خاتمے کے لئے پاک-امریکہ مشترکہ اقدام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان میں اینٹوں کے بھٹہ جات کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس صنعت میں جبری مشقت کے خاتمے کے لئے پاک-امریکہ مشترکہ اقدام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس ماڈل کو جنوبی پنجاب تک توسیع دینے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینٹ نے ان خیالات کا اظہار معروف کاروباری شخصیت اور فیملیز سیٹ فری (ایف ایس ایف ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مائیک برکلے کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ وفد میں رکن قومی اسمبلی نوید عامر جیوا، ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی، پاکستان پارٹنرشپ انیشی ایٹو (پی پی آئی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اشرف جے مال، ریان اینڈریو برکلے، میتھیو ریان برکلے، مقصود علی، ڈاکٹر وحید یوسف اور کرنل محمد اختر اقبال شامل تھے۔وفد کے رہنما مائیک برکلے نے چیئرمین سینیٹ کو فیملیز سیٹ فری اور پاکستان پارٹنرشپ انیشی ایٹو کی جانب سے حکومت پنجاب کے تعاون سے اینٹوں کے بھٹوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کمزور طبقات کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

اشرف جے مال نے بتایا کہ پاکستان پارٹنرشپ انیشی ایٹو اب تک جبری مشقت سے متاثرہ 15 ہزار سے زائد خاندانوں کی بحالی اور معاونت کر چکا ہے جس میں روزگار، نوجوانوں کی فنی تربیت اور بچوں کی سکولوں میں داخلہ مہم شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال 25 امریکی کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک وفد پاکستان کا دورہ کر چکا ہے تاکہ اینٹوں کے بھٹوں کی جدید کاری اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری کا جائزہ لیا جا سکے۔رکن قومی اسمبلی نوید عامر جیوا نے خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جبری مشقت سے نکلنے والے خاندانوں کی معاونت کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی نے چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا کہ تین اینٹوں کے بھٹے پہلے ہی جدید بنائے جا چکے ہیں جبکہ فیصل آباد، سرگودھا اور شیخوپورہ میں مزید چھ بھٹوں کی جدید کاری جاری ہے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس ماڈل کو جنوبی پنجاب تک توسیع دینے کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے بالخصوص پنجاب اور کیلیفورنیا کے درمیان روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خواتین اور اقلیتیں ہمیشہ ان کے سیاسی وژن اور حلقہ انتخاب کا اہم حصہ رہی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، بااختیار بنانے اور فلاح و بہبود کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ خصوصاً سینیٹ نے خواتین کی نمائندگی اور پارلیمانی عمل میں ان کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں، اسی طرح اقلیتوں کی سیاسی شمولیت اور نمائندگی کے فروغ کے لئے مخصوص نشستیں بھی مختص کی گئی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئین کے تحت اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور سینیٹ نے اقلیتی حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مؤثر قانون سازی کی ہے۔قبل ازیں ایک اطالوی کاروباری وفد نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، کاروباری مواقع، تجارتی فروغ اور پاکستان و اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد میں اینڈریا کوسٹانٹینو (سرمایہ کاری ڈائریکٹر و توانائی مارکیٹ کے ماہر)، فابیو اسکاشیویلاّنی (بانی شراکت دار، نیکسٹ ایکسپیرینس) اور یاسر ایم باجوہ (صدر، اے ایم بی ٹیکنو سروس) شامل تھے۔ملاقات میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اٹلی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانی عوامی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا اور پارلیمانی و اقتصادی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور کاروباری روابط کو مستحکم بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ اطالوی وفد نے پاکستان کی اقتصادی استعداد کو سراہتے ہوئے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔

 

مزید خبریں