چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو کی ملاقات

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی اور خوشگوار تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی اور خوشگوار تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے قومی ترانے کی ریکارڈنگ اور کورل اسکور، جو رومانیہ کے معروف میڈریگل۔مارین کانسٹنٹن کوائر کی جانب سے پیش کیا گیا، موصول ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے ایک منفرد ثقافتی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس اقدام پر سفیر، کوائر کے فنکاروں اور رومانیہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے مئی 2025 کے صدارتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی رومانیہ کی نئی حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان، رومانیہ کو مشرقی یورپ اور بحیرہ اسود کے خطے میں ایک اہم ملک سمجھتا ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور رومانیہ کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موجودہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں، سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے یورپی یونین کی سطح پر پاکستان کے مفادات کے حوالے سے رومانیہ کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ سیاسی روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پارلیمانی سفارتکاری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں رومانیہ کے لیے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ قائم کئے جا چکے ہیں، اور دونوں ممالک کے پارلیمانی گروپس کے درمیان آن لائن رابطے کی تجویز بھی پیش کی۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے امن کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہے، جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مذاکرات اور مکالمہ ہی پائیدار امن کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے افغان مہاجرین کے دیرینہ مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ عالمی برادری کو اس اہم انسانی مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے 35 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور اس مسئلے کے پائیدار اور باوقار حل کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے آگاہ کیا کہ وہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی ) کے متفقہ چیئرمین منتخب ہوئے اور گزشتہ سال اسلام آباد میں اس کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی مشترکہ عالمی ایجنڈا ہیں جن کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

معاشی و تجارتی تعلقات کے حوالے سے انہوں نے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانے، تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ محنت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون پر بات کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے پاکستانی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں رومانیہ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ مزید ہنر مند افرادی قوت برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تعلیمی روابط کو وسعت دینے اور جامعات کے درمیان اشتراک بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور اہم عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل مکالمے، باہمی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ کی مشیر و سفیر برائے بین الپارلیمانی سپیکر کانفرنس مصباح کھر بھی موجود تھیں۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔