اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں تعینات ترکمانستان کے سفیر اتادجان موولاموف نے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان برادرانہ اور دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار، تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ترکمانستان کے اپنے سرکاری دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ …
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا ترکمانستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کے فروغ اور پارلیمانی و اقتصادی تعاون میں وسعت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں تعینات ترکمانستان کے سفیر اتادجان موولاموف نے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان برادرانہ اور دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار، تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔
انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ترکمانستان کے اپنے سرکاری دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دورہ کے دوران انہوں نے ترکمان قیادت بالخصوص صدر سردار بردی محمدوف سے اہم ملاقاتیں کیں جن سے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات روشن ہوئے اور باہمی تعلقات کو فروغ ملا۔چیئرمین سینیٹ نے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1991ء میں ترکمانستان کی آزادی کو تسلیم کیا جبکہ مئی 1992ء میں سفارتی تعلقات باضابطہ طور پر قائم ہوئے۔
انہوں نے ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی پالیسی کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکمانستان کی غیرجانبداری سے متعلق قرارداد کی مشترکہ سرپرستی میں پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے ترکمانستان کے دوروں نے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔
دسمبر 2025ء میں وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’انٹرنیشنل فورم آف پیس اینڈ ٹرسٹ‘‘ میں شرکت کی جو ترکمانستان کی غیرجانبداری کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور صدر سرادر بردی محمدوف کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی جس میں اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا۔
چیئرمین سینیٹ نے ترکمانستان کے صدر کو 2026ء میں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔ چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور عوامی روابط کو فروغ دے گا۔چیئرمین سینیٹ نے ترکمانستان کو پاکستان کے لیے ایک اہم سٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے توانائی، ایل پی جی، تجارت دوطرفہ ہوائی سفر اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی روابط کے فروغ، ریلوے روابط اور ترکمانستان۔پاکستان(TAPI) گیس پائپ لائن منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سفیر کو سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام سے بھی آگاہ کیا جو ون ونڈو سہولت کے ذریعے سرمایہ کاری کو آسان بناتی ہے اور ترکمانستان کو آئی ٹی، انفراسٹرکچر، فارماسیوٹیکل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد میں منعقدہ پہلے انٹرپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کا ذکر کیا جس کا موضوع ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ موضوع آج کے عالمی حالات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ترکمانستان کی ملی مجلس کی اسپیکر کی دعوت پر اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے صدر ترکمانستان اور سپیکر ملی مجلس کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور آئندہ آئی ایس سی میں شرکت کی بھی دعوت دی جو کمبوڈیا میں منعقد ہوگی۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس موثر مکالمے اور قانون سازی کے تعاون کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو رہے ہیں۔
فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد ترکمانستان کے ساتھ نئے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس دونوں ایوانوں میں تشکیل دیے گئے۔ انہوں نے پارلیمانی و عوامی وفود کے تبادلوں اور سیمینارز کے انعقاد کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ترکمانستان کے سفیر نے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور پارلیمانی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے توانائی، ریلوے روابط، ٹرانزٹ ٹریڈ اور علاقائی رابطہ کاری بالخصوص گوادر پورٹ کے حوالے سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ترکمانستان کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں عملی اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے صدر سرادر بردی محمدوف اور اسپیکر ملی مجلس کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے ان کے متوقع دورہ پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔








