چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوستانہ تعلقات کی مضبوط بنیاد موجود ہے جسے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، ادویہ سازی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں تبدیل کیا جانا چاہئے
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پاکستان اوربیلاروس کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر زور، پارلیمانی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
منسک۔25ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوستانہ تعلقات کی مضبوط بنیاد موجود ہے جسے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، ادویہ سازی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کونسل آف دی ری پبلک بیلاروس کی چیئرپرسن نتالیہ کوچانووا کی دعوت پربیلاروس کے دورے پر ہیں جس کے دوران اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقاتوں و سرگرمیوں کا انعقاد ہوا۔ دورے کا مقصد پاکستان اور بیلاروس کی دیرینہ دوستی کو عملی پارلیمانی، اقتصادی، صنعتی اور تکنیکی تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔کونسل آف دی ری پبلک بیلاروس کی قیادت سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کونسل آف دی ری پبلک کی چیئرپرسن نتالیہ کوچانووا سے تفصیلی مذاکرات کئے جن کا آغاز ون آن ون ملاقات سے ہوا جبکہ بعد ازاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی۔ فریقین نے دوطرفہ اور بین الپارلیمانی تعلقات، 2025-2027 کے لئے تعاون کے روڈ میپ پر عملدرآمد، پارلیمانی فرینڈشپ گروپس، علاقائی روابط، بینکنگ تعاون اور انسانی بنیادوں پر تبادلوں کا جائزہ لیا۔ دونوں جانب سے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اسمبلی پروڈکشن، زراعت اور ادویہ سازی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی زور دیا گیا۔دورے کا ایک اہم نتیجہ بیلاروس کی کونسل آف دی ری پبلک اور پاکستان کی سینیٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط تھے۔ مفاہمتی یادداشت پر نتالیہ کوچانووا اور سید یوسف رضا گیلانی نے دستخط کئے۔ یادداشت میں باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں، ادارہ جاتی روابط، بین العلاقائی تعاون اور بین الاقوامی پارلیمانی پلیٹ فارمز پر مربوط روابط کے لئے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس معاہدے کو پاکستان اور بیلاروس کے بین الپارلیمانی تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے وفد کے ہمراہ منسک ٹریکٹر پلانٹ (MTZ) کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے ادارے کی پیداواری صلاحیتوں اور جدید زرعی مشینری کا جائزہ لیا۔ پاکستانی وفد کو بتایا گیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران 70 ہزار سے زائد بیلاروسی ٹریکٹرز پاکستان کو فراہم کئے جا چکے ہیں۔ اس موقع پر تعاون کو مزید وسعت دینے، پاکستان میں ٹریکٹرز کی اسمبلنگ دوبارہ شروع کرنے، برآمدات میں اضافے، جدید زرعی آلات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے ایم ٹی زیڈ میوزیم-انڈسٹریل سینٹر آف لیبر گلوری کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں ٹریکٹر پلانٹ کی 80 سالہ تاریخ اور صنعتی کامیابیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دورے کے اختتام پر یادگاری تحائف کا تبادلہ کیا گیا اور چیئرمین سینیٹ نے کتابِ مہمانانِ اعزاز میں اپنے تاثرات درج کئے۔ چیئرمین سینیٹ کاحالیہ دورہ بیلاروس دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک مرکوز اور مستقبل پر مبنی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں پارلیمانی سفارتکاری کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تعاون پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے مزید نئے مواقع پیدا کئے جا سکیں۔







