چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدر بیلاروس الیگزینڈر لوکاشینکو سے ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدر بیلاروس الیگزینڈر لوکاشینکو سے ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

منسک۔24ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے منسک میں جمہوریہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر گریگوریوچ لوکاشینکو سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ انہوں نے پاکستان کے عوام اور پارلیمان کی جانب سے بیلاروس کے عوام کے لئے گرمجوشی پر مبنی خیرسگالی اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستانی پارلیمانی وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر صدر لوکاشینکو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بیلاروس کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، تعاون اور یکجہتی پر مبنی ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور سیاسی، پارلیمانی، اقتصادی، تعلیمی، تکنیکی، ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے مئی 2015 کے اسلام آباد اعلامیے اور اگست 2015 میں طے پانے والے دوستی و تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تعاون کے وسیع تر فریم ورک کے لئے اہم بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے اپریل 2025 میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے منسک کے سرکاری دورے اور نومبر 2025 میں صدر لوکاشینکو کے پاکستان کے سرکاری دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے اہم سنگ میل قرار دیا۔دوطرفہ تعلقات کے اقتصادی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے موجودہ مفاہمت کو عملی اقدامات اور پاکستان و بیلاروس کے عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے سرمایہ کاری فورمز اور پاکستان-بیلاروس بزنس کونسل کے ذریعے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط اور تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لئے پاکستان کی اہم جغرافیائی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے علاقائی منڈیوں تک رسائی کے لئے پاکستان کی رابطہ کاری اور لاجسٹکس کی صلاحیتوں سے مزید استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صنعتی تعاون، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں شراکت داری کے وسیع مواقع کی بھی نشاندہی کی۔چیئرمین سینیٹ نے زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا جس میں بیلاروس کو پاکستانی چاول، پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ، بیجوں کی پیداوار، لائیو اسٹاک، ماہی گیری اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔

انہوں نے مشترکہ زرعی مشینری ٹیسٹنگ مرکز کے قیام کے لیے پاکستان کی تجویز پر بیلاروس کے مثبت غور کا خیرمقدم کیا۔دونوں جانب سے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فنی تربیت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستانی اور بیلاروسی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور دیا، جس میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تبادلے شامل ہیں۔پارلیمانی سفارت کاری کے حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پارلیمانی روابط باہمی افہام و تفہیم کے فروغ، اعتماد سازی اور حکومتی سطح کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کے درمیان تعاون، قانون سازی کے تجربات اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے، سالانہ پارلیمانی وفود کے تبادلے اور پارلیمانی عملے کے باہمی تبادلوں کی حوصلہ افزائی کی۔چیئرمین سینیٹ نے بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی ) کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو پارلیمانی سفارتکاری، عالمی امن، تعاون اور جامع ترقی کے فروغ کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے نومبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پہلی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں بیلاروس کی شرکت کو سراہا۔

چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا. سید یوسف رضا گیلانی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل اعلیٰ سطحی روابط، مضبوط پارلیمانی و اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے ایک بار پھر صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کا پاکستانی وفد کے لیے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات مستقبل میں بھی مزید وسعت اور مضبوطی اختیار کرتے رہیں گے۔

مزید خبریں