چیئرمین سینیٹ کا عالمی امن پر زور، بین الاقوامی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے

اسلام آباد / جہلم۔6جون (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہےجبکہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور ذمہ دارانہ قیادت ہی پائیدار راستہ ہیں۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے یہ بات ہفتہ کوحضرت پیر سید قاسم علی شاہ کرمانیؒ اور حضرت پیر سید شبیر علی شاہ کرمانیؒ (پیر پشاوری) کے سالانہ عرس مبارک کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی جو ضلع جہلم میں سجادہ نشین پیر سید امیر حمزہ کرمانی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔منعقدہ روحانی اور مذہبی اجتماع میں علماء کرام، مشائخ عظام، سیاسی و سماجی شخصیات اور ملک بھر سے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں آمد پر چیئرمین سینیٹ کا مقامی انتظامیہ اور معزز شخصیات نے پرتپاک استقبال کیا۔اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے اولیائے کرام کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بزرگانِ دین کی تعلیمات آج بھی معاشرے میں امن، رواداری، اخوت، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن، اعتدال، رحم اور ہم آہنگی کا دین ہے، تاہم بعض عناصر مسلمانوں کو انتہا پسندی اور تشدد سے جوڑ کر اسلام کے حقیقی تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دنیا بھر کے مسلمان امن، بقائے باہمی اور انسانی وقار کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نےعالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور مختلف خطوں میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کےپھیلاؤ اور عالمی استحکام کو لاحق خطرات کے تناظر میں سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل ناگزیر ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی کشیدگی میں کمی، تنازعات کے پُرامن حل اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے۔انہوں نے امریکہ اور ایران کےدرمیان جاری مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سفارتی عمل مثبت نتائج کا باعث بنے گا اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دے گا۔ انہوں نے ان کوششوں کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام نے عالمی معیشت، مہنگائی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا ہےجس کے اثرات ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو معاشی مشکلات سے بچانا قومی ترجیح ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی عوامی فلاح اور معاشی ریلیف پر مبنی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ کے حوالے سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے تعمیری اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں گی۔چیئرمین سینیٹ نے نوجوان نسل کو اولیائے کرام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سےمعاشرے میں اعتدال، برداشت اور اخلاقی ذمہ داری کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سجادہ نشین پیر سید امیر حمزہ کرمانی کی دینی و روحانی خدمات کو سراہا اور عرس مبارک کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ اور پوری دنیا میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔