اسلام آباد ۔ 31 جنوری (اے پی پی) قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے دنیا کشمیر کے مسئلے کو متنازعہ قرار دے رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے رہی ہے، 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منائیں گے، وزیراعظم عمران خان مظفر آباد کا دورہ …
چیئرمین قومی کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور کشمیر کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 جنوری (اے پی پی) قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے دنیا کشمیر کے مسئلے کو متنازعہ قرار دے رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے رہی ہے، 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منائیں گے، وزیراعظم عمران خان مظفر آباد کا دورہ کریں گے، 5 اگست کے اقدام کے بعد چین کے تعاون کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دو بار اس بارے میں اجلاس طلب کیا، عالمی میڈیا نے یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا، پانچ فروری کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی حمایت میں اپنے گھروں سے نکلے، مودی کی جانب سے پلوامہ واقعہ کے بعد کی طرح کی حماقت کا خطرہ موجود ہے تاہم وہ یاد رکھے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے‘ اندرونی سیاسی اختلافات کے باوجود کشمیر کے تنازعہ پر پوری قوم متحد ہے‘ سیکولر اور جمہوری بھارت آج دنیا میں نفرت کی علامت بن چکا ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور اور کشمیر کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ کشمیری اس وقت دنیا کے محروم ترین انسانوں میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں ہونے کے باوجود انہیں بنیادی حق خودارادیت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اس جدوجہد میں اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ پلوامہ واقعہ کو بنیاد بنا کر 1971ءکے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستان کی سرحد کو عبور کیا جس کا انجام اس نے دیکھ لیا۔ یہ ان کے لئے واضح پیغام تھا کہ وہ کسی جارحیت کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آزاد کشمیر کے عوام نے بھارتی افواج سے لڑ کر یہ خطہ آزاد کرایا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متاثر کن تقریر میں دنیا کے لئے جن چار بڑے خطرات کی نشاندہی کی ان میں ایک تنازعہ کشمیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ وہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر بھارت کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ بھارت میں شہریت کے قانون میں متنازعہ تبدیلی کے بعد کئی ریاستوں کے وزراءاعلیٰ نے اس پر عملدرآمد سے انکار کردیا ہے۔ اب دنیا اس حوالے سے بات کر رہی ہے ‘ کشمیر کے تنازعہ کو تسلیم کر رہی ہے۔ فخر امام نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ آر ایس ایس کے نظریہ پر کاربند ہو کر یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ 5 اگست جیسے اقدامات اٹھا کر کشمیریوں کو دبا دیںگے لیکن کشمیریوں نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے، پہلی بار امریکہ میں بنیادی انسانی حقوق کے مسئلے پر بھارت سے سخت سوالات اٹھائے گئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری کو 48 برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے خطوط لکھے ہیں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے رپورٹس شائع کی ہیں، جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے دہلی ایئرپورٹ پر بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بیان دیا، لیبر کانفرنس نے کشمیر پر قرارداد پاس کی، 5 اگست کے بعد عالمی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں معاشی تباہی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی ہمیشہ سے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، اب ہم اس کے علاوہ سوچ رہے ہیں کہ کشمیریوں کی مزید کس طرح مدد کی جائے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت نیوکلیئر ممالک ہیں، ٹرمپ نے پانچویں مرتبہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ فخر امام نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے کشمیر پر دو قراردادیں منظور کی ہیں جبکہ یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ایک اور قرارداد منظور کی جائے گی، پانچ فروری شہر شہر ریلیاں ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی پاکستانیوں کی نمائندہ ہے، 72 سال میں جو مسئلہ حل نہیں ہو سکا وہ اتنی جلدی حل نہیں ہو سکتا، تاہم اب دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھا رہی ہے۔ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے کے بعد عالمی برادری نے اس جانب توجہ دی ہے، کشمیری مصائب کے باوجود ’ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ وہ اپنے شہداءکو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفناتے ہیں اس لئے یہ پاکستانی قوم کا قومی فریضہ ہے کہ وہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر گھروں سے نکلیں، پاکستان نے سفارتی سطح پر کشمیر پر کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، آج دنیا اس مسئلے کی حمایت کر رہی ہے، آر ایس ایس کے نظریئے کو دنیا جان چکی ہے، ہم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی نازی مودی ذہنیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے، 4 فروری کو ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے حریت قیادت بھی خطاب کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پانچ اگست کے اقدام کے بعد ہم لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرنے کی اجازت دیتے تو بھارت دنیا کے سامنے یہ پراپیگنڈا کرتا کہ پاکستان نے ہم پر حملہ کر دیا ہے جبکہ دنیا میں پاکستان کی ساکھ اب بدل چکی ہے اور دنیا جو پہلے ہم پر دہشت گردی کا الزام لگاتی تھی اب وہ جان چکی ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔








