چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا آگاہی و تدارک کی حکمت عملی کے جائزہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی فورم نے لوگوں کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر نیب کی آگاہی حکمت عملی کو سراہا ہے، اس حکمت عملی کے تحت نیب مختلف سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا، سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر کام کر رہا ہے …

اسلام آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی فورم نے لوگوں کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر نیب کی آگاہی حکمت عملی کو سراہا ہے، اس حکمت عملی کے تحت نیب مختلف سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا، سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر کام کر رہا ہے تاکہ لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی آگاہی و تدارک کی حکمت عملی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم کے عالمی مسابقتی انڈیکس رپورٹ 2019ءمیں نیب کی بدعنوانی کے مضر اثرات کی روک تھام کیلئے آگاہی و تدارک کی حکمت عملی کی تعریف کی گئی ہے جو کہ پاکستان اور نیب کیلئے قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نیب آرڈیننس کے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور تدارک کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی بدعنوانی سے متعلق برے اثرات سے آگاہی اور تدارک کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے، اس حکمت عملی کے تحت نیب مختلف سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا، سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر کام کر رہا ہے تاکہ لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ کے مختلف طبقوں سے مثبت ردعمل کے ساتھ ساتھ نیب کے میڈیا ونگ نے مفت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے نیب کی آگاہی و تدارک کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے جس کو معاشرہ کے تمام طبقوں نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے بدعنوان عناصر، اشتہاریوں اور مفروروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں، گذشتہ 26 ماہ کے دوران نیب نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جبکہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں 630 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے گئے ہیں، نیب کی جانب سے ریکوری کو متعلقہ سرکاری محکموں اور ہزاروں متاثرین کو واپس کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک روپیہ بھی نیب افسران نے وصول نہیں کیا کیونکہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے میگا کرپشن مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی مو¿ثر آگاہی اور تدارک کی حکمت عملی کے باعث یہ فعال اور معتبر ادارہ بن چکا ہے۔ پلڈاٹ، مشعال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر قومی و بین الاقوامی اداروں نے اپنے سروے اور رپورٹس میں اس کی کارکر دگی کو سراہا ہے۔ گیلپ اینڈ گیلانی کے حالیہ سروے میں 59 فیصد لوگوں نے نیب کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ نیب قانون کے مطابق اپنی کاوشیں کر رہا ہے۔ نیب نے کرپشن سے متعلق شکایات کی وصولی کیلئے عام شہریوں کیلئے بھی اپنے دروازے کھولے ہیں جس کے باعث نیب کو 2019ءمیں گذشتہ سال کے اس عرصہ کے مقابلہ میں دگنا شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز میں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں الگ خصوصی سیل قائم کیا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے نیب نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کا مقصد ملک بھر سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے خلاف جنگ کیلئے تیار کرنا ہے۔ نیب نوجوانوں کیلئے کردار سازی کی انجمنیں قائم کرنے پر توجہ دے رہا ہے، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کردار سازی کی انجمنیں قائم کرنے کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے، ملک بھر سے سکولوں اور کالجوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے 55 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، ان انجمنوں کے باقاعدہ اجلاس ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب قوم بدعنوانی کے برے اثرات سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے اور بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔ چیئرمین نیب نے بلاامتیاز احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کا عزم کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کی کوششوں سے بدعنوانی سے پاک پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔