چیئرمین پاکستان علماء کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حوثی ملیشیا ءکی جانب سے سعودی عرب کے قومی وسائل، اہم تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل اپنی سلامتی، خودمختاری، شہری آبادی اور قومی تنصیبات کے تحفظ کے لئے سعودی عرب کے تمام …
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے قومی وسائل، اہم تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنانے کی مذمت

مزید خبریں
لاہور۔8ستمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حوثی ملیشیا ءکی جانب سے سعودی عرب کے قومی وسائل، اہم تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل اپنی سلامتی، خودمختاری، شہری آبادی اور قومی تنصیبات کے تحفظ کے لئے سعودی عرب کے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
سعودی عرب ارضِ حرمین شریفین ہے، اس لئے اس کی سلامتی ہر مسلمان کے لئے اہم ہے، پاکستانی قوم، علماء و مشائخ اور مذہبی قیادت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں جنگ کے خاتمے، سیاسی مذاکرات اور پائیدار امن کے لئے مسلسل کوششیں کی ہیں مگر حوثی ملیشیا ءکا امن عمل مسترد کرنا اور خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔
سعودی عرب کا اپنی سرزمین، شہریوں، قومی وسائل اور مقدسات کا دفاع اس کا مسلمہ حق ہے اور اس کے صبر و تحمل کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا ءکی جارحیت اور شہری تنصیبات پر حملوں کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے خطے کے امن کے تحفظ اور ایسے اقدامات کی روک تھام کے لئے مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، اخوت اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں، پاکستانی عوام ارضِ حرمین شریفین کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتے ہیں اور ہر جارحیت کے مقابلے میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔








