وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ڈیجیٹل فنانس، ٹیکنالوجی اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا
چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب کی ہانگ کانگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ڈیجیٹل فنانس، ٹیکنالوجی اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے کمیونیکیشن یونٹ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آرتھر یوئن سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں ٹوکنائزڈ کیپٹل مارکیٹس، ڈیجیٹل بانڈز اور مالیاتی تصفیہ کے بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہانگ کانگ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان نے ورچوئل اثاثہ شعبے کے لئے ریگولیٹری بنیادیں قائم کردی ہیں اور اب اگلا مقصد اس ریگولیٹری فریم ورک کو ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد معتبر کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا اور ورچوئل اثاثوں کے حقیقی مالیاتی استعمال کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ٹوکنائزڈ کیپٹل مارکیٹس اور ریگولیٹری ٹیکنالوجی میں عملی پیش رفت پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔بیان کے مطابق پاکستان نے سرکاری سکیورٹیز، سکوک اور دیگر حقیقی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے حوالے سے ہانگ کانگ کے تجربے اور ماڈل سے سیکھنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے سیکرٹری برائے مالیاتی خدمات و خزانہ کرسٹوفر ہوئی سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں جانب سے ادارہ جاتی تعاون، تکنیکی تبادلوں اور مالیاتی شعبے میں عملی اشتراک کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔انہوں نے ہانگ کانگ قانون ساز کونسل کے رکن ڈنکن چیو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں مالیاتی ٹیکنالوجی، ویب تھری، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔بلال بن ثاقب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی مراکز کے ساتھ مل کر محفوظ، شفاف اور مربوط ورچوئل اثاثہ ماحولیاتی نظام کو فروغ دے گا۔








