چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں خواتین کے مالی تحفظ، طلاق کے بعد جائیداد میں حق، حج انتظامات اور آئندہ حج پالیسی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں خواتین کے مالی تحفظ، طلاق کے بعد جائیداد میں حق، حج انتظامات اور آئندہ حج پالیسی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر سید علی ظفر نے ایک نجی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے طویل عرصے بالخصوص 40 سال یا اس سے زائد عرصہ اکٹھے گزارنے کے بعد اگر شوہر بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اکثر خواتین معاشی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد خواتین نے شکایت کی ہے کہ طلاق کے بعد ان کے پاس نہ رہائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی گزر بسر کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے، اسی تناظر میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ نکاح نامہ میں شق شامل کی جائے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کیا جا سکے تاکہ اسے معاشی تحفظ حاصل ہو۔سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک خصوصاً بعض اسلامی ممالک میں بھی اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں اور ان پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

انہوں نے ایران، شام، لیبیا، اردن، ملائیشیا اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کی گھریلو خدمات، بچوں کی پرورش اور شوہر کی معاونت کو قانونی طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر عدالتی سطح پر بھی غور کیا گیا جہاں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس کیانی سمیت مختلف قانونی ماہرین نے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ شادی شدہ زندگی کے دوران بیوی کی خدمات کو بھی معاشی شراکت تصور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے برطانیہ، بھارت اور دیگر ممالک کے قوانین کا حوالہ بھی دیا۔سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ اگر بیوی معاشی طور پر مستحکم ہو اور شوہر کی معاونت کرے تو ایسے حالات میں شوہر کے حقوق کا بھی تحفظ ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی اپنے خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اس لئے قانون سازی میں دونوں کے حقوق کو مساوی اہمیت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں دوسری شادیوں اور کم عمر لڑکیوں سے شادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیئے ہیں، وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیئے۔ انہوں نے رائے دی کہ مجوزہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایا جائے تاکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے بعد خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے نہایت اہم ہے۔

سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مغربی نظریات کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں خواتین کو عزت، احترام اور مکمل حقوق حاصل ہیں اور اسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مجوزہ بل کی موجودہ شکل کی حمایت نہیں کرتے۔سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اگر ترکیہ اور ایران جیسے اسلامی ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں تو انہیں قرآن و سنت کے منافی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جا سکتا، اس لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل اس معاملے پر پہلے بھی غور کر چکی ہے تاہم بہتر ہوگا کہ اس بل کو دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے تاکہ موجودہ حالات کے مطابق اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہندو پرسنل لا میں اس نوعیت کی گنجائش موجود ہے اور وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس پر رائے شماری کرائی جائے۔ کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا کہ مجوزہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے یا کونسل کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے ان کی رائے حاصل کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ قانون سازی کی جا سکے۔اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے حج 2026 کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال حاجیوں کی سہولیات اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایات بینکنگ سروسز (3,164)، آن لائن درخواست سروسز (2,552)، رہائش (1,527)، حاجی کیمپ سروسز (1,242)، ٹرانسپورٹ (1,010)، خوراک سے متعلق مسائل (714)، متفرق امور (623) اور ویلفیئر سٹاف سے متعلق شکایات (379) موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ سلام سم، قربانی، اسپلٹ فیملی، نسک کارڈ، طبی سہولیات، تربیت، ویکسینیشن، پاسپورٹ سے متعلق امور، امیگریشن کلیئرنس میں تاخیر اور ریاض الجنہ سے متعلق شکایات بھی سامنے آئیں۔ وزارت نے اوورسیز پاکستانیز افیئرز ، بینکوں، سروس فراہم کرنے والے اداروں، سعودی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے تمام شکایات کا بروقت ازالہ کیا اور بعد ازاں حاجیوں سے فیڈبیک بھی حاصل کیا۔معاون مکہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال سی ٹائپ عمارتیں حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بہتر معیار کی بی ٹائپ عمارتیں کرائے پر لی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رہائش سے متعلق تقریباً 1200 شکایات موصول ہوئیں جنہیں فوری طور پر حل کیا گیا جبکہ ناقص کارکردگی پر متعلقہ عمارتوں کے مالکان پر جرمانے بھی عائد کئے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بعض مشکلات سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی شٹل سروس کے باعث پیش آئیں، جبکہ کھانے کے معیار سے متعلق بھی شکایات سامنے آئیں۔ آئندہ حج کے لئے فوڈ سروس میں مزید بہتری لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے سوال اٹھایا کہ حج انتظامات کے بعض ٹھیکے ایک ہی صوبے یا مخصوص اداروں کو بار بار کیوں دیئے جاتے ہیں اور دیگر صوبوں کو بھی مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے حج انتظامات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی خرچ پر حج کے دوران سعودی عرب گئے تھے تاہم متعلقہ حکام نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں مناسب تعاون فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا تو عام حاجیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔

سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی متعدد حاجیوں کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائش اور دیگر سہولیات کے حوالے سے کئی مسائل سامنے آئے جن کے حل کی یقین دہانی کے باوجود عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ سینیٹر دنیش کمار نے حج مشن کے بعض انتظامی معاملات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران خصوصاً ڈی جی کو طلب کرنے کا تقاضا کیا تاکہ تمام معاملات پر وضاحت لی جا سکے۔وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کمیٹی تحریری طور پر شکایات فراہم کرے تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر حج 2026 کے انتظامات گزشتہ برسوں کی نسبت بہتر رہے اور اس سال ایک لاکھ 19 ہزار پاکستانیوں نے حج ادا کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ الراجحی کمپنی کو مسلسل ٹھیکے کیوں دیئے جا رہے ہیں جس پر وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ اس سال دو مختلف کمپنیوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور تمام تقرریاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہیں۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ حج انتظامات، شکایات، رہائش، ٹرانسپورٹ اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گاجبکہ ڈی جی وحید سومرو سمیت ذمہ دار افسران سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔

کمیٹی اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن نے اعلان کیا کہ قائمہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29 جولائی 2026 کو منعقد ہوگا۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن، سینیٹر حسنہ بانو، سینیٹر حافظ عبدالکریم، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر سید علی ظفر، سینیٹر سرمد علی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، وزارت مذہبی امور کے سینئر حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔