عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اقرباء پروری، انتظامی بدعنوانیوں اور انٹرنل آڈٹ سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
بینک آف خیبر میں مبینہ بے ضابطگیوں، کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات تشویشناک ہیں، سینیٹر ایمل ولی خان

مزید خبریں
پشاور۔ 09 جولائی (اے پی پی):عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اقرباء پروری، انتظامی بدعنوانیوں اور انٹرنل آڈٹ سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر میں مبینہ بے ضابطگیوں، کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات تشویشناک ہیں، الزامات کی غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل پر بدترین ڈاکہ ہے، یہ عمل صوبے کے واحد سرکاری بینک کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف گزشتہ 13 برس سے احتساب، شفافیت اور گڈ گورننس کے دعوے کرتی آرہی ہے، آج صوبے کا شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو بدعنوانی اور میرٹ کی پامالی کے الزامات کی زد میں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے، بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ڈگری کے حوالے سے بھی وضاحت ضروری ہے، حقیقت سامنے لانے کیلئے اس معاملے کی بھی فوری، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے نام پر قائم بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک بھی رکن کا تعلق خیبر پختونخوا سے نہ ہونا حیرت انگیز ہے، کیا خیبر پختونخوا میں اہل، دیانتدار اور پیشہ ور افراد کی کمی ہے، صوبے کے اپنے مالیاتی ادارے کے فیصلے بھی باہر سے آنے والے افراد کے سپرد کرنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر کے متعلقہ قانون میں فوری ترامیم کی جائے، لازمی قرار دیا جائے کہ بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر یا چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہو، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی خیبرپختونخوا کی مؤثر نمائندگی کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، بینک کے تمام مالی، انتظامی اور قانونی معاملات کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، بینک آف خیبر کے تمام انٹرنل آڈٹ رپورٹس کو منظرعام پر لایا جائے، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی صوبے کے اداروں، وسائل اور عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی، خیبر پختونخوا کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، وسائل پر سب سے پہلا حق اس صوبے کی عوام کا ہے، عوامی نیشنل پارٹی اس حق پر کسی قسم کا سمجھوتہ بالکل بھی قبول نہیں کرے گی۔








