چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ سے ملاقات، خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ سے ملاقات، خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں خواتین کو با اختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید سہل اور موثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے ہنر مندی اور تربیت کے مواقع، بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام اور کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے سمیت خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ خواتین کے لیے معاون اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے حالیہ ورلڈ بینک LEWIE–CGE تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق بی آئی ایس پی کے ذریعے منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی معیشت میں تقریباً 2.34 روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے سماجی تحفظ کے شعبے میں باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مستحق خواتین تک موثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج کے لیے آگاہی مہمات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹس کے نظام کی جانب منتقل ہو رہا ہے جو مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے بڑے اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا مقصد خواتین کو محفوظ، شفاف اور باوقار مالی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے اقدامات کو سراہا اور اس پروگرام کو ایک موثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ملاقات کے دوران مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔








