چیئرپرسن سینیٹر بشرٰی انجم بٹ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس، ’’یونیورسٹی آف بزنس، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025ء” پر غور

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشرٰی انجم بٹ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں تعلیم کے شعبے میں سنگین بے ضابطگیوں، غیر رجسٹرڈ جامعات، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور نجی اداروں کی فیسوں میں ہوشربا اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے ’’یونیورسٹی آف بزنس، سائنسز اینڈ …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشرٰی انجم بٹ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں تعلیم کے شعبے میں سنگین بے ضابطگیوں، غیر رجسٹرڈ جامعات، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور نجی اداروں کی فیسوں میں ہوشربا اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے ’’یونیورسٹی آف بزنس، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025ء‘‘ پر غور کیا۔ وزارت تعلیم کے مطابق، بل کے محرک نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں تاحال باضابطہ درخواست ہی جمع نہیں کرائی۔ سینیٹر بشرٰی انجم بٹ نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بغیر قانونی تقاضے پورے کیے یونیورسٹی کا قیام ناقابل قبول ہے۔

کمیٹی کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی ) کے 85 اساتذہ و عملے کی جانب سے وائس چانسلر اور دیگر حکام کے خلاف مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور ہراسانی کے الزامات پر بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے کہا کہ جامعات خاندانی کاروبار نہیں ہیں۔ غیر قانونی بھرتیوں کی تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔ چیئرپرسن نے نجی سکولوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر 50 ہزار روپے تک فیس لینے پر برہمی کا اظہار کیا اور اداروں جیسے "دی سٹی سکول” اور "روٹس انٹرنیشنل” کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

پیرا کے رکن امتیاز قریشی نے سابق چیئرپرسن ضیا بتول پر سنگین الزامات عائد کیے کہ انہوں نے استعفیٰ کے بعد بھی اختیارات استعمال کیے۔ضیا بتول نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف اپنے حق کی تنخواہ لی۔ فاقی اردو یونیورسٹی میں جولائی تا ستمبر 2025ء کی تنخواہیں اور پنشنز تاحال ادا نہیں کی گئیں، حالانکہ ایچ ای سی نے سالانہ 1.1 ارب روپے جاری کیے تھے۔

چیئرپرسن نے کہا کہ ریٹائرڈ اساتذہ کو ان کا حق نہ دینا ظلم ہے۔ وزیر تعلیم اگلی میٹنگ میں مستقل حل کے ساتھ پیش ہوں۔ کمیٹی نے ایچ ای سی کے ہیلپ ڈیسک کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جعلی جامعات کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے۔ PIMSAT کراچی کی غیر مجاز کیمپسز سے 24 ہزار سے زائد ریکارڈ جمع کرانے پر 10 اکتوبر کو تصدیقی دورے کا اعلان کیا گیا۔

اساتذہ ریسورس سینٹر (ٹی آر سی ) نے پاکستان کے لیے پہلی بار جماعت 1 تا 10 کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے نصاب اور اساتذہ کے لیے ٹول کٹ متعارف کرائی، تاہم نوٹیفکیشن تکنیکی مسائل کی وجہ سے مؤخر کر دیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز اشرف علی جتوئی، سید مسرور احسن، ڈاکٹر افنان اللہ خان، راحت جمالی، کامران مرتضیٰ، نسیمہ احسن اور عبدالشکور خان نے شرکت کی۔