چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا اہتمام

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں جمعہ کو سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ریفرنس سے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، نامزد چیف جسٹس گلزار احمد، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، سپریم کورٹ بار کے صدر سید قلب حسن اورپاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید امجد …

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں جمعہ کو سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ریفرنس سے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، نامزد چیف جسٹس گلزار احمد، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، سپریم کورٹ بار کے صدر سید قلب حسن اورپاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ نے خطاب کیا۔چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے ،اور سچ کا ہی بول بالا ہوگا، بطور چیف جسٹس مجھ سے کسی فیصلے میں نادانستہ طور پر کہیں ناانصافی ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہوں، عوام کا تحفظ یقینی بناناریاست کی اولین ذمہ داری ہے ،میرا نظریہ ہے کہ ایک جج کو سب کے ساتھ یکساں انصاف یقینی بنانے کے لئے شیر جیسا دل،لوہے جیسے مضبوط اعصاب کے ساتھ ذہانت و ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی چھٹیاں نکال کر میں 235 روز تک چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہاہوں،ایک جج کو بے خوف ونڈر ہونا چاہیے، میرے لیے یہ اہم نہیں کہ میرے بارے میں دوسروں کا ردعمل یا تاثرکیا ہو سکتاہے، میں نے اپنے 22 سالہ کیرئیر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے اور بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے قانونی تقاضوں کی روشنی میں بلا خوف وخطر فیصلے کیے ہیں، ریٹائر منٹ کے موقع پرآج میرا ضمیر سو فیصد مطمئن ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے دور میں سپریم کورٹ اور عدلیہ میں کی گئی اصلاحات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ وہ کیا ہے جو صحیح سمجھا اور اسے ضروری سمجھا ہے اورکبھی یہ نہیں سوچا کہ میرے قانونی فیصلوں کے نتائج کیا ہوں گے یا ہو سکتے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ اس عرصہ کے دوران میری بنیادی توجہ انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر مرکوز رہی۔ میں نے عدلیہ کو متوازن اور مستحکم کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی۔ عدالتوں میں 25سال سے زیرالتوا مقدمات کو نمٹا دیا گیا ہے۔میرے چیف جسٹس کے دور میں پندرہ ہزار پانچ سو پچپن مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمات جلد ازجلد نمٹانے کیلئے ماڈل کورٹس بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے بطور جج ہائی کورٹ و سپریم کورٹ اور بعد ازاں بطور چیف جسٹس اپنے فرائض بخوبی نبھائے ہیں،انہیں ایک لائق اور قابل جج کے طور پر پہچانا جاتا ہے، عدلیہ نے ماضی میں بھی چیلنجوں کاسامنا کیا ہے ،آئین پاکستان ایک زندہ وجاوید دستاویزہے اورہمیں بہر صورت اس کی حفاظت یقینی بنانا ہے ۔

مزید خبریں