چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی زیر صدارت پولیس اصلاحات کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)پولیس اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین/چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے صوبہ پنجاب میں پولیس کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے قتل کے مقدمات میں سزاﺅں کی شرح کم ہونے اور بریت کی شرح بہت زیادہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل پولیس بیوروملک بھر میں ایف آئی آر کے درست اندراج، غیر ضروری حراست اور جھوٹی …

اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)پولیس اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین/چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے صوبہ پنجاب میں پولیس کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے قتل کے مقدمات میں سزاﺅں کی شرح کم ہونے اور بریت کی شرح بہت زیادہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل پولیس بیوروملک بھر میں ایف آئی آر کے درست اندراج، غیر ضروری حراست اور جھوٹی شہادتوں کے خاتمہ کے حوالے سے کوئی یکساں حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ملک بھر میں پولیس کی جانب سے شہریوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرزکے اندراج اور قانون کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہوسکے۔ سوموار کے روز پولیس اصلاحات کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس نے کی جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج گلزار احمد، چاروں صوبوں، اسلام آبا د، آزادکشمیر اور گلگت و بلتستان کے پولیس سربراہان (آئی جیز) اور سابق پولیس افسران سمیت متعلقہ عملہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران آئی جی پنجاب نے رپورٹ پیش کی کہ یکم جنوری 2019 سے لیکر 31جولائی 2019کے دوران صوبہ بھر کے کل 2586قتل کے مقدمات کے فیصلے ہوئے ہیں جن میں ملزمان کو ملنے والی سزاﺅں کی شرح 31فیصد جبکہ بریت کی شرح69فیصد رہی ہے۔ جس پر فاضل چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے مقدمات میں مختلف سقم چھوڑ دینے کی بناءپر پنجاب میں قتل کے مقدمات میں ملزموں کو ملنے والی سزاﺅں کی شرح بہت کم اور ملزمان کی بریت کی شرح بہت زیادہ ہے۔

مزید خبریں