چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (ایل جے سی پی) کا 46 واں اجلاس

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (ایل جے سی پی) کا 46 واں اجلاس جمعہ کو سپریم کورٹ میں منعقد ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں فوجداری ضابطہ (CrPC) اور عائلی قوانین میں مجوزہ اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اصلاحات نظامِ …

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (ایل جے سی پی) کا 46 واں اجلاس جمعہ کو سپریم کورٹ میں منعقد ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں فوجداری ضابطہ (CrPC) اور عائلی قوانین میں مجوزہ اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اصلاحات نظامِ انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی منصفانہ فراہمی میں مددگار ثابت ہوں گی۔اجلاس میں چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اٹارنی جنرل برائے پاکستان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی عبوری چیئرپرسن نے شرکت کی۔

کمیشن نے خاندانی قوانین میں مجوزہ ترامیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم خاندانی تنازعات کے فوری حل اور فیملی کورٹس کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنیں گی۔ مزید برآں، کمیشن نے قانو نِ شہادت آرڈر 1984 میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل شدہ شواہد کو عدالت میں قابلِ قبول بنایا جا سکے۔کمیشن نے اس امر پر اظہارِ تشویش کیا کہ ایک ہی نوعیت کے مقدمات میں متضاد عدالتی فیصلے قانونی ابہام پیدا کرتے ہیں اور نظائر (precedents) کے اصول کو متاثر کرتے ہیں۔اجلاس میں ایل جے سی پی ملازمین (سروس شرائط) رولز 2025 کے مسودے کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان قواعد کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور محمد منیر پراچہ ایڈووکیٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ایکسیس ٹو جسٹس ڈیویلپمنٹ فنڈ (AJDF) کے گورننگ باڈی کا 21واں اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں فنڈ کی کارکردگی اور گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ 2005 سے اب تک ہائی کورٹس کو ضلعی عدلیہ کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 904.7 ملین روپے اور پسماندہ اضلاع میں خصوصی منصوبوں کے لیے 166.5 ملین روپے جاری کیے گئے۔تاہم جولائی 2024 سے ستمبر 2025 کے دوران فنڈ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوااور اس عرصے میں 1,462.3 ملین روپے عدالتی انفراسٹرکچر اور سہولیات کی فراہمی کے لیے جبکہ 151 ملین روپے پسماندہ اضلاع کے منصوبوں کے لیے جاری کیے گئے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے فنڈ کے موثر انتظام و انصرام پر ایل جے سی پی سیکرٹریٹ کی کارکردگی کو سراہا۔