چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ، ٹیکس کے بڑے مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے اصلاحاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور

اسلام آباد۔ 03 جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ طویل المدتی ٹیکس تنازعات نہ صرف مالی وسائل پر دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں، ہم عدلیہ کی جانب سے ایسے اقدامات کو یقینی بنائیں گے جو بروقت انصاف اور قانونی شفافیت کو فروغ دیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے …

اسلام آباد۔ 03 جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ طویل المدتی ٹیکس تنازعات نہ صرف مالی وسائل پر دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں، ہم عدلیہ کی جانب سے ایسے اقدامات کو یقینی بنائیں گے جو بروقت انصاف اور قانونی شفافیت کو فروغ دیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز چیف جسٹس کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی معیشت پر اہم اثرات رکھنے والے ٹیکس کے بڑے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، سپریم کورٹ کے جج، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین،ایف بی آر کے ممبر (لیگل) اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں طویل عرصے سے زیر التوا اور بڑی مالیت والے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے مضبوط اور مستقل فریم ورک کی تشکیل پر بات چیت کی گئی، جس میں مقدمات کے بیک لاگز کم کرنے، قانونی شفافیت بڑھانے اور عوامی آمدنی کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں زیر غور اصلاحاتی حکمت عملی میں اہم اور بڑے ٹیکس مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد نمٹانا،ٹیکس حکام اور عدالتی نظام کے درمیان بہتر ہم آہنگی،قانونی تیاری اور مقدمات کے نظم و نسق کو مضبوط بنانا،فیصلوں کے تسلسل اور تیز رفتاری کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار اور ادارہ جاتی اقدامات پر غور شامل تھے ۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ اجلاس عدلیہ کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ تھا جس کا مقصد گورننس میں بہتری، انتظامی تاخیر میں کمی اور عدالتی عمل کو ملکی اقتصادی اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا ہے۔