چینی صدر کی یورپی رہنمائوں کے ہمراہ ورچوئل سربراہی اجلاس میں شرکت

بیجنگ۔9مارچ (اے پی پی):چینی صدر شی جن پنگ نے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکرون اور جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔ چینی ریڈیو کے مطابق شی جن پنگ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چین اور یورپی یونین مشترکہ طور پر امن، ترقی اور تعاون کی جستجو کر رہے ہیں، فریقین کو مشاورت کی مضبوطی ، باہمی تعاون اورتعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی …

بیجنگ۔9مارچ (اے پی پی):چینی صدر شی جن پنگ نے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکرون اور جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔

چینی ریڈیو کے مطابق شی جن پنگ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چین اور یورپی یونین مشترکہ طور پر امن، ترقی اور تعاون کی جستجو کر رہے ہیں، فریقین کو مشاورت کی مضبوطی ، باہمی تعاون اورتعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی سے دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی وسیع گنجائش پیدا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو باہمی مفاد اور سودمند نتائج کے اصول کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں سبز اور ڈیجیٹل شراکت داری اور عملی تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔

ایمانوئل میکرون اور اولاف شولز نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی کامیاب میزبانی پر چین کو مبارکباد دی اور موسمیاتی تبدیلی ، صحت عامہ اور مسئلہ یوکرین جیسے بڑے عالمی چیلنجزسے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

اس موقع پرفریقین نے یوکرین کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یورپی رہنمائوں نے کہا کہ یورپ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اس وقت انتہائی سنگین بحران کا سامنا ہے ، فرانس اور جرمنی امن کو موقع دیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر چین کی جانب سے انسانی ہمدردی کی صورتحال پر پہل کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیااور چین کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، امن کی حوصلہ افزائی اور بات چیت کو فروغ دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی، تاکہ صورت حال میں مزید بگاڑ اور مزید سنگین انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کی جائے، تمام ممالک کے جائز سلامتی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے، امن کی کوششوں سے بحرانوں کے حل کی حمایت کی جائے۔

انہوں نے یوکرین کی صورت حال میں ثالثی کے لیے فرانس اور جرمنی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین دونوں ممالک اور یورپی یونین کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے سمیت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ فریقین نے ایرانی جوہری مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔