چین اور یورپی یونین نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک نئے چین۔یورپی یونین تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے باضابطہ قیام کی تصدیق کر دی ۔
چین اور یورپی یونین نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق مشاورتی میکانزم لانچ کر دیا
بیجنگ۔30جون (اے پی پی):چین اور یورپی یونین نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک نئے چین۔یورپی یونین تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے باضابطہ قیام کی تصدیق کر دی ۔ شنہوا کے مطابق منگل کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت ابتدائی طور پر چار اہم شعبوں پر کام کیا جائے گا، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری میں توازن، برآمدی کنٹرول، دانشورانہ املاک کے حقوق اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات شامل ہیں۔ چین کے وزیرِ تجارت وانگ وین تاؤ اور یورپی کمیشن کے تجارت، اقتصادی سلامتی، بین الادارہ جاتی تعلقات اور شفافیت کے کمشنر ماروش شیفچووچ نے پیر کو برسلز میں اس مشاورتی میکانزم کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ چین کی وزارت تجارت کے مطابق اجلاس میں چین اور یورپی یونین نے اقتصادی اور تجارتی مسائل پر جامع اور تعمیری بات چیت کی ۔
اجلاس میں فریقین نے متعلقہ تجارتی اعداد و شمار کا تبادلہ، تجارتی بہاؤ کی نگرانی اور تکنیکی تعاون پر اتفاق کیا گا تاکہ شفافیت میں اضافہ، باہمی اعتماد کو فروغ اور تجارتی تنازعات کا موثر انتظام ممکن بنایا جا سکے۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ منڈی تک رسائی میں اضافے کے اقدامات تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں ،اس مقصد کے لیے ممکنہ ٹیرف اور غیر ٹیرف اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی سے متعلق اپنے اپنے مسائل کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا اور ان پر مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے نایاب معدنی عناصر اور دیگر اہم معدنیات و خام مال سے متعلق برآمدی کنٹرول کے شعبے میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور اس سلسلے میں مزید بات چیت کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ چین اور یورپی یونین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ برآمدی کنٹرول سے متعلق تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کے استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دیں۔ مشترکہ بیان میں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، تنظیم میں بامعنی اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے اور اس کے اختیار اور مؤثریت میں اضافہ کیا جائے۔









