چین نے بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکا کے الزامات کو مسترد کر دیا

بیجنگ ۔23جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکا کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔شنہوا کے مطابق فو کونگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں "مریکا ہی کشیدگی پیدا کر رہا ہے، انتشار پھیلا رہا ہے …

بیجنگ ۔23جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکا کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔شنہوا کے مطابق فو کونگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں "مریکا ہی کشیدگی پیدا کر رہا ہے، انتشار پھیلا رہا ہے اور خطے میں اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کو ساؤتھ چائنا سی آئی لینڈز اور ان سے متصل پانیوں پر ناقابلِ تردید خودمختاری حاصل ہے۔ چین کی علاقائی خودمختاری اور بحری حقوق و مفادات کے تاریخی اور قانونی جواز موجود ہیں۔فو کونگ نے کہا کہ بحیرہ جنوبی چین کے ثالثی کیس پر چین کا موقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے، چین نام نہاد ثالثی فیصلے کو قبول یا تسلیم نہیں کرتا اور اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا اقدام کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے بحیرہ جنوبی چین کی مجموعی صورتحال مستحکم رہی ہے اور وہاں جہازرانی اور فضائی پروازوں کی آزادی پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فو کونگ کے مطابق چین تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی بنیاد پر مکالمے اور مشاورت کے ذریعے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا تاریخی حقائق اور جنوبی بحیرہ چین سے متعلق زمینی صورتحال کو نظر انداز کر کے کشیدگی پیدا کر رہا ہے، انتشار پھیلا رہا ہے اور خطے میں باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے آج تک سمندری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCLOS) میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔فو کونگ نے کہا کہ یہ سب پر عیاں ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی پیدا کرنے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کون کر رہا ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ جہازرانی کی آزادی کو کون خطرے میں ڈال رہا ہے ۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔